تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 580 of 736

تحدیث نعمت — Page 580

۵۸۰ i کے مواقع پر بڑی کثرت سے اور بڑے فاصلے طے کر کے نمازہ کے لئے مسجد میں حاضر ہوتے ہیں۔حج کے موقعہ پر بھی میں نے کئی ہزارہ ترکوں کو مناسک حج ادا کرتے دیکھا ہے۔ان کی تکبیر الٹ پھیر میرے کانوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی تھی تلفظ کا فرق مکن ہے لاطینی رسم الخط کے اختیار کرنے کا نتیجہ ہو۔الم اعلم بالصواب۔ول کے قیام کے دوران میں تاریخی عمارات، محات اور مقامات کی زیارت سے دل کو سرور حاصل ہو استنبول کی اب وہ شان ہیں جو دارالحکومت ہونے کے زمانے میں تھی۔ایک افسردگی کی در و دیوار سے ٹپکتی ہے جو زائر کے دل کو بھی افسردہ کرتی ہے۔استنبول سے انقرہ گئے۔حکومت کی طرف سے ہر طرح کی تواضع کا سلوک ہوا۔رہائش کا انتظام سرکار کی مہمان خانے میں تھا جو نہایت پر فضا مقام پر واقع ہے اور جہاں سے انقرہ کا بہت خوشنما منظر نظر آتا ہے۔برفباری کا موسم تھامہمان خانے میں ہرقسم کی آسائش میں تھی۔باہر کی طرف نظر کرنے سے اندرونی آسائش کا لطف دوبالا ہو جاتا تھا۔نہ کی انہی دنوں NATO میں بطور رکن شامل ہوا تھا اور وزیر خارجہ NATO کے اجلاس میں شرکت کے لئے از بین تشریف لے گئے ہوئے تھے۔وزیرا عظم عدنان مندریس (غفر اللہ لہ نے پہلی ملاقات میں بڑی شفقت سے فرمایا کہ وزیر خارجہ کے انقرہ میں موجود نہ ہونے کوئی حسن اتفاق سمجھتا ہوں کیونکہ یک تودہ انگریزی نہیں جانتے تمہیں ترجمان کے واسطے سے گو کر نا ہوتی۔دوسر ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے انہیں سب کو میرے ساتھ کیا ہوگی جس میں اپنے نئے نوشی اور حرکا موجب سمجھتا ہوںمیں انگریزی میں اچھی طرح سے بات کرلیتا ہوں اسے کسی نہ جان کی ضرورت نہیں ہوگی۔تم جب چاہو اور جتنے وقت کے لئے چا ہو پوری آزادی سے میرے ساتھ بات چیت کرد۔چنانچہ میرے انقرہ کے قیام کے دوران میں پانچے دفعہ ہماری ملاقات ہوئی اور ہردفعہ وزیراعظم صاحب بنایت دوستانہ رنگ میں پورے انشراح صدر سے بات چیت کرتے ین نواز نے امام کی سالانعامات کی کیا کیا موضوع اسے تھے ن پرمیں نے کسی در تفصیل سے وزیراعظم کی خدمت میں گزارش کی۔ایک تو یہ کہ ترکی کا یورپ کی طر ہی متوجہ رہنا اس کے لئے باعث قوت نہیں۔انہیں ایشیا کی طرف اور خصوصاً شرق اوسط اور قریب کے اسلامی ممالک کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے اور ان کے ساتھ رابطہ بڑھانا اور مضبوط کرنا چاہیے۔دوستے عرب ممالک ورتہ کی کے درمیان اگر کوئی غلامی ہوتو اسے دور کر کے مخلصانہ اور دوستانه رابط قائم ہونے چاہئیں۔وزیراعظم صار نے ان دونوں مقاصد کے ساتھ اتفاق کا اظہار کیا۔یہ اظہار محض رسمی یا ٹالنے کی خاطر نہیں تھا۔ہمسایہ عرب ممالک کے ساتھ باہم تعلقات کے متعلق تو تفصیلی گفتگو فرمائی۔دونوں طرف کے نقطہ نگاہ پر اظہار اے کیا۔خلط معنی کے اسباب پر ر فرمایا۔بعض معنی مشکلات کا ذکر کی کیا۔آخر فرمایا میر حکومت کو عرب ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقاتر کو فروغ دینے کی طرف خاص توسعہ ہے۔ہمیں اس بارے میں کس قدر کامیابی بھی ہوئی ہے ہم اپنی سعی کو جاری بھی لے اور میں امید کرتا ہوں کہ بتدریج ہمارے تعلقات زیادہ مضبوط ہوتے پیلے جائیں گے۔