تحدیث نعمت — Page 579
069 میں نے اس موقع پر تو اور نہ دیا لیکن چند دن بعد پھر یاد دہانی کی بیگم صاحب نے کو الف دریافت فرمائے اور کسی قدیر لچسپی کا اظہار کیا لیکن انکی طبیعت پوری طرح مائل نہیں ہوئی۔میرے تیسری دفعہ حاضر خدمت ہونے پر انہوں نے بہت تامل کے بعد رضا مندی دیاری۔نیویارک میں ان کے لئے بعض سہولتوں کا انتظام کر دیا گیا۔انہوں نے اپنے فرائض کو پوری توجہ سے بوجہ احسن سرانجام دیا۔ترکی ، لبنان اور شام کا سفر | شام کے املی کے اجلاس کے دوران میں مجھے وزیراعظم صاحب کی طرف سے ہدایت موصول ہوئی کہ ترکی اور شرق اوسط کی حکومتوں کے ساتھ مناسب طریق پر سلسلہ جنبانی کر کہ ان سب کے وزرائے عظام مشمول پاکستان سال میں ایک بار آپس میں لیا کریں تاکہ ایک دوسرے سے جان پہچان ہو جائے اور بر ایک کے حالات اورمشکلات سے آگئی جوکر باہمی مشورے اور تعاون کے امکانات پیدا ہوں۔اور مغربی طاقتوں کے غلبے کے نتیجے می تو بعد کیس میں پیدا ہو گی ہے وہ رفع ہو کر ہمدردی اور اخوت کے احساسات پیدا ہوں۔یہ کوئی سیاسی منصوری نہیں خانہ اس کی ہمیں کوئی دھڑے بندی مقصود تھی۔میرا تی دی اس کی نئی میں نا کہ اگر ان مالک کے ارباب حل و عقد ہے۔لیکن میرا احساس تھا کہ سیاسی الجھنوں میں گرفتار سیاسی قائدین ساده می تونی کویا تو کسی گیری سیاسی سازش کی خشت اول سمجھتے ہوئے اس پر عمل کرنے سے اجتناب کریں گے اور یا سے بیکار اور نتیجہ سمجھ کر ٹال دیں گے۔اسمبلی کا جلاس ختم ہونے پر میں نے وزیر اعظم صاب کے ارشاد کی تعمیل میں کراچی واپس ہوتے ہوئے ترکی ، لبنان اور شام میں ھی نے اور اس تجویز کے متعلق ردعمل معلوم کرنے کا پروگرام بنایا۔اس سفر ملی محمد سر صاحب سابق لیوپولڈ رائٹس، ہو پاکستانی فارن سروس کے رکن تھے اور بین کا تقریر اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب منتقل نمائندے کے منصب پر ہو چکا تھا مرے ہمرہ تھے۔پیرس سے روانہ ہوکر ہم استنبول ٹھہرے۔ہوائی جہانہ کے استنبول کے مطار بیاتی نے کے وقت فجر کی خانہ کا وقت کا تھامیں نے تک کی پروٹوکول اس سے تو ہمارے استقبال کو ے ہو ئے کہا کہ اگر میں نماز پڑھنے کے لئے یہ مل جاے تو منون ہوں گا۔انہوں نے فرمایا محمد قریب ہی ہے وہیں ملتے ہیں مسجد بھی تو ایک گاؤں میں لیکن عادت پرانی اور شاندار تھی اور مسجد آباد تھی۔فجر کی نماز ختم ہو چکی تھی۔امام صاحب ایک دیہاتی کو قرآن کریم کا سبق دے رہے تھے۔میں نے اور محمد اسد صاحب نے وضو کیا اور نماز ادا کی۔ترکی میں پہنچے ہی ایک خوشنما آباد مسجدمیں نماز ادا کرنے کا موقعہ میسر آنے پر میں نے بہت خوشی محسوس کی اور یہ اس اس استنبول کے قیام میں اور بھی زیادہ مہر گیا۔ترکی کے انقلاب اور اتا ترک کی اصلاحات کے بعد اسلامی ممال میں عام تاثر تھا کہ ترکی میں دنی اقدار کا احترام نہیں کیا جا تا میرے مشاہر نے اسے بالکل غلط لکہ ایک اہتمام ثابت کیا۔میں نے استینوں میںسب مسجد کو آباد اور نمازوں کے اوقات میں نمازیوں ے بھرایا یا بعد میں لگ کے قیام میں بھی میں نے دیکھا ہے ک ترک مزدور جو اینٹ کے کارخانوں میں کام کرتے ہیں عیدین