تحدیث نعمت — Page 578
اب تمارا محور سان فرانسکو جاکر معاہدے کی تائید کرنالازم ہوگیا ہے۔یہ کانفرنس شروع ستمبر میں ہونیوالی تھی میں ۲۹ اگست کو نوابزادہ صاحب سے رخصت ہو کر امریکہ کے سفر پر روانہ ہوگیا۔افسوس یہ ہماری آخری ملاقات ثابت ہوئی کانفرنس سے فارغ ہونے کے بعدمیں اقوام متحدہ کی املی کے سالانہ اجلاس میں شمولیت کے لئے چلا گیا۔اجلاس کے دوران ایک روز صبح صبح پولیس کے ایک مائندے نے ٹینوں پر یروشتناک برسائی کہ راولپنڈی می ک شخص نے وزیر اعظم پاکستان کوگولی سے زخمی کر دیا ہے۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔ابھی میری طبیعت اس خبر کے صدمے سے بھال نہ ہونے پائی تھی کہ اس نمائندے نے دوسری بار ٹیلیفون پر بتایا کہ وزیراعظم صاحب انتقال فرماگئے ہیں۔میرے منہ سے فوراً بجو با نکلا :- THIS IS DREADFUL NEWS۔THE HAND That Released THAT ON BULLET, HAS LET Loose A Host of MISERIES PAKISTAN بیہ بڑی اندوہناک خبر ہے۔جس ہاتھ نے وہ گولی چلائی اس نے پاکستان کے لئے کئی قسم کے مصائب کا دروازہ کھول دیا ہے۔) يغفر الله ويجعل الجنة العليا متواہ۔واقعات نے ثابت کر دیا کہ میرا خدشه صحیح تھا۔نواب زادہ صاحب کی وفات کے بعد پاکستان کئی لحاظ سے بدیہ کرتا چلاگیا اورآج پاکستان کو جن مشکلات کا سامناہے ان کا شمار نہیں ہوسکتا۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔وزیرا عظم صاحب کی اچانک وفات کے نتیجے میں یمنی طور پر دار کا خاتمہ ہوگی اور میں فورا را چی روانہ ہو گیا۔میرے پہنچنے تک خواجہ ناظم الدین صاحب کا تقریر وزارت عظمی پر اور ملک غلام محمد صاحب کا گورنہ منزل کے عہدے پر موسکا تھا۔خواجہ ناظم الدین صاحب نے مجھے ارشاد فرمایا ہم جانتے ہیں تمثل سابق وزارت خارجہ کا نظران سنبھالو۔میں نے شکریے کے ساتھ ان کے ارشاد کی تعمیل کی اور دن کے بعد ان کی ہدایت کے مطابق اسمبلی کے اجلاس میں شمولیت کیلئے واپس چلا گیا۔بیگم رعنا لیاقت علی خان کے لئے یہ واقعہ فاجعہ کسی قدر صدمے اور کرب کا موجب ہوا ہو گا ن کا دل ہی جانتا ہے کسی اور کے لئے یہ اندازہ کرنا حال ہے۔اشیاء کے دوران میں مجھے احساس ہوا کہ محرم میگم رعنا لیاقت علی خان کی طبیعت افسردہ سے افسردہ تر ہوتی جار ہا ہے۔میں نے وسط اگست میں وزیر اعظم صاحب کی خدمت میں گذارش کی کہ اگر وہ اجازت دیں تومیں بیگم صاحبہ اقوام متحدہ کی اسی کے سالانہ جلاس میں پاکستانی وفد کی رکنی قبول فرمانے پر آمادہ کیے کی کوش کردیں وزیر اعظم صاحب نے بخوشی منظوری دیدی۔اور میں نے بیگم صاحبہ کی دم میں جونیہ کا ذکر یا ان کا فوری روی حوصلہ افزانہ تھا۔I