تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 570 of 736

تحدیث نعمت — Page 570

۵۷۰ ڈالتا ہے کہ ہم اپنے تنازعات کا تصفیہ پر امن طریقوں سے کریں اور دوسری طرف جب ہم اقوام متحدہ کے ذریعے ایک تناز کے فیصلے کے طالب ہوتے ہیں تواسے ایجنڈے میں درج کرنے کی بھی مخالف کی جاتی ہے۔اس کا نتیجہ کیا ہوگا ہی نا کر سر قم کی آزادی کا مسئلہ یہاں زیر غور نہیں لایا جاسکتا وہ تنگ آمد بجنگ آمد کا طریق اختیار کرے گی۔اگر اقوام متحدہ کی اس غیر ہمدردانہ روش سے مایوس ہو کر تونس اور مراکش کے وطن پرست جنگ کی ٹھان لیں گے تو ناحق انسانی خون گرایا جائیگا۔اگر چہ اس کشمکش کا انجام تو ایک ہوسکتا ہے یعنی یہ کہ کل آزاد ہو کر رہیں گے۔لیکن اس صورت میں تو مصاب جانبین کو برداشت کرنے پڑیں گے ان کی ذمہ داری سے بڑھ کر امریکی منانے پر ہوئی تو لوں والا سادات ،۔۔لنت ا اور حمیت کے مادی میں میں نمی کا آ کر دی ان کے نام وادی کو جاتا ہے اریایی در ایران نے ہماری تاریہ کی بات میں یہاں تک کہ دیا کہ نہایت افسوس ہے ایک طرف توب ملکوں کے نمائدے حکومت فرانس کی مہمان نوازی کی تعریف کرتے ہوئے اپنی ممنونیت کا اظہار کرتے ہیں اور دو ہی طرف اس معاملے میں ہمارے خلاف رائے دینے پر آمادہ ہیں۔مسٹر ردبیر شومان وزیر خارجه فرانس ایک قابل اور باوقار سیاستدان سمجھے جاتے تھے۔ان کے منہ سے ایسی بوری بات سنکر مجھے حدود بعد تاسف ہوا۔آرا شماری کے بعد اس دن کا اجلاس بر خاست ہو گیا۔میرے دل کی حالت میرے چہرے سے !۔190 ا یہ رائے شماری شکست نہیں راضی فت ہے۔یاد رکھو یہ اجلاس پرس میں ہو رہا ہے۔یہاں کے قیام کے دوران میں کسی ملے پر فرانس کے خلاف رائے دینا لاطینی امریکیوں کے لئے نامکان ہے۔پریس تو ہماری جھولوں کا قبا ہے۔فرانس کے نفات ائے دیگر ہم اپنے گھروںمیں کیسے ادیبہ باکریں۔تمہاری توی این در اراک کی کم سے پرس میں سرد ہو جانے کے منی ہی که آنده سال نیویارک کے اجلاس میں یہ خونی بلا مخالفت منظور ہو جائے گی۔چنانچہ ایسی ہوا اور شکار کے سالانہ استلباس میں اگرچہ فرانس نے مخالفت تو کی لیکن یہ دونوں مسئلے ایجنڈے میں شامل ہوگئے اور زیر بحث آئے۔جب ان مسائل پر کب ہوتی تو فرانسیسی نمائندے احتجا جا اجلاس سے اٹھ کر چلے جاتے لیکن کسی دوسرے کرے میں بیٹھ کر تقریریں سنتے رہتے عرب ممالک کی خواہش تھی کہ فلسطین اور لیبیا کی آزادی کے مسلے کی طرح تونس اور مراکش کی آزادی کے مسلہ کو اسمبلی میں تفصیل یش کرنے کی عادت بھی پاکستانی سرانجام دے۔یہ کوئی شک امری ہی انا ما ارف کے محکوم علاقوں یعنی تونس الجزار تھا۔اور مراکش کے مقابلے میں بیان تا پسماندہ تھا۔جب لیا آزاد ہو گیا تو مغرب کے باقی علاقوں کا آنراد کیا جانالازمی تقان کی آزادی کے رستے میں روکاوٹیں تو ڈالی جاسکتی تھیں لیکن آخر کاران کا انذار ہونا یقینی تھا۔پیرس میں فرحت عباس صاحب اور دیگر قائدین شاہ کے اجلاس کے دوران محمد اقبال شیدائی صحاب الجزائر کے ساتھ الجزائر کی آزادی کے متعلق گفتگو کے توسط سے بعض الجزائری قائدین بھن میں فرحت عباس صاحب اور دو تین دیگر اراکین پارلیمنٹ بھی شامل تھے جےسے لے اور فرمایام توس اور مراکش کی آزادی کامسئلہ امیلی