تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 566 of 736

تحدیث نعمت — Page 566

کیا ۵۶۶ تو کا میں ہی موئی تو دوباره گفت و شنید کا سلسلہ پاکستانی سفارتخانے میں ہی جاری ہوا۔قاہرہ میں جب بھی میری گفتگو انقلابی کونسل کے اراکین کے ساتھ کوئی اس کی کرنل عبد الجمال ناصر صاحب شامل ہوتے رہے۔ان ایام میں حکومت کے رئیس ابھی جنرل نجیب تھے مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کی سعادت بھی حاصل ہوتی رہی۔وہ نہایت با اخلاق متواضع منكر المزاج اسم با کمی سہتی ہیں۔میرے ساتھ ہمیشہ کے لطف اور اسان کے ساتھ پیش آتے رہے۔جزاء اللہ۔ریاستہائے متحدہ کی طرف سے تبھی اس معامے میں مصر کی پوری تائید کی گئی اور ان کی مدد موثرہ بھی ثابت ہوئی۔ان ایام میں امریکی سفر متعینہ قاہرہ مسٹر کافری تھے۔میں جب بھی اس سلے میں قاہرہ گیا بر طانوی سفیر سر رالف سٹیفن اور مسٹرکا فری سے ملتا رہا۔برطانوی سیر صاحب سے تو یہ محض برطانوی موقف کا علم مال ہوتا لیکن مٹر کافری بڑی صفائی سےبات کرتے اور ان سے تمام حقیقت معلوم ہو جاتی اء کے انتخاب میں جب جزیل آمدن تا دور ریاستان متحدہ امریکہ کے صدرمنتخب ہوگئے اور ری پیکن پارٹی پیر تدار آئی تو مجھے اندیشہ ہوا کہ مر کافی کو جوڈیموکریٹک پارٹی کے تھے شائد قاہرہ سے واپس بلالیا جائے۔اگر چہ ایسے معاملے میں دخل اندازی ائمہ نہیں ہوتی لیکن میں نے شروع سواء میں جب امریکی وزیر خارجہ سے دانستگی میں اس خدشے کا اظہار کی اور کہا کہ ان کے قاہرہ سے پہلے آنے سے ممکن ہے اس مسئلے کے عمل میں عولتی ہو جائے تو سٹرڈس نے فرمایا جب تکیہ مسلہ ہے نہ ہوجائے میرا رادہ مٹر کافر کو قاہرہ سے واپس بلانے کا نہیں مجھے اس سے اطمینان ہوا۔آخری مراحل طے ہو کر وزیراعظم برطانیہ کی رضامند کار را باقی رہ گیا میں لندن میں ٹرائین سے ملاتو سب طے کر انہوں نے مشورہ دیا تم خود بھی وزیر اعظم مر وہ مل س ملوہ تمہاری رائے کی قدر کرتے ہیں۔انہوں نے مجھے یہ بھی ل سے کرتے ہیں۔ار وزیر اعظم علم ہے کہ حامد میران مجوز محجوتے کے تم میں ہیں جس دن میری ملاقات وزیر اعظم سے تھی اس سے پلی ام جیل سریانی را برٹن نے جو سویز کے حلقے کے برطانوی کمانڈر انچیف تھے اور رخصت پر سکاٹ لینڈ آئے ہے ھے مجھے ٹیلیفون پر فرمایامجھے معلم تو ہے تم کل وزیر اعظم سےملنے والے ہو۔تمہاری اس ملاقات سے پہلے ضروری ہے کہ ہم آپس میں بات چیت کر لیں میں آج رات کی ایکسپریس سے لندن آرہا ہوں۔کل ہی سٹیشن سے سید ھاتمہارے پاس آجاؤں گا۔دوسری صبح وہ تشریف لائے۔انہوں نے فرمایا یہ نہایت اہم معاملہ ہے اور اب آخری اور سب سے نازک مرحلے پر ہے اس لئے ہر مناسب اختیاط اور نذیر لازم ہے۔میں تین باتیں تم سے کہا چاہتا ہوں وہ یہ کہ وزیر اعظم پر یہ ہرگز ظاہر نہیں ہونا چاہے کہ میری تمہاری کوئی گفتگو اس سکے پر ہوئی ہے۔دو سے تم مناسب طریق سے ان کی طبیعت پر پر تاثر چھوڑتا کہ مصری انقلاب ایک معمل حقیقت ہے عارضی یا نہیں تو ان ٹاور کی میٹھا ئے گا تیرے تم انہی اطمینان دلانے کی کوشش کرنا کہ انقلابی کونسل جو بھی معاہدہ ہوا سے پورے طور پر بنائے گی میں نے وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران