تحدیث نعمت — Page 558
۵۵۸ سربی این راؤ : تو پھر تم کیا چاہتے ہو ؟ ظفر اللہ خان :۔حکومت ہند کے شقوں پہ رائے شماری میں حصہ نہ لینے کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ برطانیہ اور فرانس کو ناراض نہیں کرنا چاہتے ورنہ جیسے آپ نے کہا ہے قرار داد کے تو وہ مخالف ہیں۔آپ اگر چاہیں تو پہلی دو شتوں پر رائے شماری میں حصہ نہ لیں کہ اگر ربانی اور فرانس کی خوشنودی ی منظور ہوتو بیت ان دو شقوں کی تائید یں رائے دیں لیکن تیری شق کے خلاف رائے نے دینی تنظیم ہو گا۔اٹل کی آپ کوکوئی موت مر بھی نہیں اور یہ بھی واضح ہے کہ اگر تیری شق منظور ہو گئی تو انہی قرار داد منظور ہو جائے گی اور آپ کا مقصد فوت ہو جائے گا۔اسلے میں تو یہ کہتا ہوں کہ پہلی دو شقوں کے متعلق آپ جو چاہیں کریں لیکن تیسری مشق کے خلاف ضرور رائے دیں۔سربی این راڈ۔کچھ سوچنے کے بعد اس طریق سے نتیجہ تومیری حکومت کے نشاء کے مطابق ہی ہو گا بہت اچھا ہم ایس سی کریں گے۔ادر ایئٹی کے نمائندے نے بھی تیری شق کے خلاف رے دین منظور کرلیا۔اجلاس شروع ہو گیا۔سمادی کو نشا الاک کے دوران میں بھی جاری رہی لیکن با درآور نہ ہوئی۔تقریروں کاسلسلہ کچھ لیا ہوگیا سہ پہر کا اجلاس ملتوی ہو ایام کے کھانے کے بعد پھر اجلاس شور دریا ہوا۔آخر گیارہ بجے شب کے بعد رائے شماری کی نوبت آئی۔مغربی ریاستی مطمئن نظر آتی تھیں جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ انہیں قرار داد کے منظور ہونے کا اور الفین ہے۔ہم جو قرار داد کے مخالف تھے خالف و پریشان تھے۔میری دعائیں نہ بیل جاری تحقیں کیونکہ طبیعت میں بہت اضطراب تھا۔رائے شماری شروع ہوئی پہلی شقی منظور ہوگئی، دوسری شق منظور ہوگئی تیری شتی پہ ہم نے نام بنام رائے شماری کا مطالبہ کیا بریک کا نام باری باری پیکانہ جاتا اور اس ملک کا نمائندہ پانی یانہ یا رائے زنی سے اجتناب کا اعلان کرتا۔ملک کے نام ایکانی جانے کے سوا سنانے کا عالم تارکین عبدالرحیم خان جو ان دنوں اقوام متحدہ میں ہمارے مستقل نمائندے تھے ایک کاغذ پر پر جواب کو لکھتے جارہے تھے۔جب سب اراکین ممالک کیطرف سے جواب مل سکے تو کرنل صاحب نے جلد جلد اپنے لکھے ہوئے بجوابات کو شمار کیا اور میرے کان میں کہا نا ئیدی آراء ۳۳ مخالف ۱۷ رائے دینے سے اجتناب کرنے والے ۸ پہلے تو میری طبیعت افسردہ ہوئی کہ یہ شق بھی منظور ہوگئی کیونکہ ہمارا اندازہ تھا کہ ۱۷ مخالف آرا نا منظوری کے لئے کافی نہیں ہوں گی۔لیکن جب میں نے ۳۳ اور ۱۷ کا موازنہ کیا تومیری طبیعت میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی کیونکہ ۳۳ موافق آراء ، مخالف آراء کے دگنے سے کم تھیں۔اب ہم انتظار میں تھے کہ صاحب صدر کی زبانی نتیجے کا اعلان ہو۔آسٹریلیا کے وزیر خانہ جبہ ڈاکٹر الیویٹ صدر تھے اور مسٹرٹر گورے کی سیکریٹری جنرل تھے۔امور متعلقہ اسمبلی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جزا مٹر اینڈیو کار ڈیر تھے۔موخر الذکر دونوں اصحاب صاحب صدر کے دائیں بائیں تشریف فرماتھے۔تینوں سر جوڑے رائے شماری کے پرچے کا غور سے مطالعہ کر رہے تھے۔صاحب صدر خود قرارداد کے زوالہ " 16۔