تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 553 of 736

تحدیث نعمت — Page 553

۵۵۳ ه دیوالی رہے کہ دیکھیں آگے چل کر اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے جب نفس موضوع پر انہوں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ پاکستان تو نہ صرف سو فیصد عربوں کی تائید میں ہے بلکہ واقعات کی تفاصیل کے علم، انہیں ترتیب دینے ، قضیے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے اور دلائل کی مضبوطی کے لحاظ سے عربمندوبین سے کہیں بڑھ کر ہے تو ان کے استعجاب اور خوشی کی حد نہ رہی۔تقریر کے ختم ہونے پر جب میں اجلاس کے کمرے سے نکلا تو عرب نمائندگان نے مجھے گھر لیا اور نہایت مبالغہ آمیز الفاظ میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔اس دن سے ان کی نگاہ میں پاکستان کو خاص اہمیت حاصل ہوگئی اور یہ صرف فلسطین کے مسئلے پر بلکہ ہر عب مسئلے پر وہ پورے وثوق سے پاکستان کی تائید اور پر زور حمایت پر اعصام کرنے لگے اور جب تک میرا ان معاملات کے ساتھ تعلق رہا لفضل اللہ ان کے لئے کوئی موقعہ شکایت کا پیدا نہ ہوا۔پاکستان کے اقوام متحدہ کی سرگرمیوں میں حصہ ) جب لاء کے شروع میں ہندوستان نے قضیہ کشمیر لینے سے پاکستان مختلف ممالک سے متعارف ہوا مجلس امن میں اس غرض سے پیش کیا کہ محلی امن پاکستان کی گوشمالی کرے کیونکہ پاکستان ہندوستان سے الحاق شدہ ریاست جموں کشمیر میں بے جا مداخلت کا مجرم ہوا ہے تو اس مسلے کی حقیقت واضح ہونے پر اراکین مجلس نے پورے طورپر اندازہ کر لیا کہ پاکستان ہندوستان کی شکمی ریاست نہیں اور امن عالم میں خلل اندازہ نہیں بلکہ ہندوستان کی چیرہ دستیوں کے خلاف داد طلب ہے۔بتجربے نے واضح کر دیا کہ اس زمانے کے ماحول میں پاکستان کے لئے اپنی حیثیت کو متعارف کرانے کا ایک بڑا زریعہ اقوام متحدہ کی سرگرمیوں میں نمایاں حصہ لیا ہے۔جن حالت میں پاکستان وجد میں آیا اور ابتدا میں ہی سے جن ہنگامی مشکلات ور مصائب کا سامنا کرنا پڑا ان کے ہوتے پاکستان کی یہ حال تھی کا ر کر ڈھکنے کی امیر کی جاتی تو ہو نگے ہو جاتے اور پاؤں ڈھکنے کی کوشش کی جاتی تو سر ننگا ہو جاتا۔دیگر ممالک سے خارجی تعلقات کا سوال قبل از وقت تھا کیونکہ ہمارہ کاخارن سروس ابھی وجود میںہی نہیں آئی تھی اور مشکل چند بڑے بڑے ملکوں کے ساتھ رابطہ قائم ہو سکا تھا۔ان حالات میں اقوام متحد کا وجود بہت غنیمت تھا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے ابتدائی ایام میں اکثر اراکین ممالک کے وزرائے اعظم یا وزرائے خارجہ اعباس میں شرکت کے لئے تشریف لاتے تھے اور اعلاس کے دوران ھی بھی بہت سے ملکوں کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شریک رہتے تھے اور ہر رکن مک کا نمائندہ تو بہر حال یہاں موجودی ہونا تھا۔اس ذریعہ سے ایسے ممالک کے ساتھ مبین سے ابھی سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوئے تھے مشترکہ امور کے سلجھانے کا ذریعہ اقوام متحدہ میں میسر آجاتا تھا۔علاوہ مجنرل اسمبلی کے اجلاس کے مجھے تنازعہ کشمہ کے سلسلے میں بھی مجلس امن کے اجلاسوں میں شرکت کے لئے نیو یارک جانا پڑتا تھا۔بعض سالوں میں سال کا قریباً نصف حصہ مجھے اقوام متحدہ میں رہنا پڑتا تھا۔