تحدیث نعمت — Page 550
ده سے سنتے تھے اور مسکرا دیتے تھے۔متعدد بار پاکستان کی طرف سے کہا گیا کہ ایک رفیق یکطرفہ طور پرایک بین الاقوامی تھیئے کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔اگرمسٹر کرشنا مین با حکومت ہندو ا ع میں ان ڈھکونسلوں کو جو ہندوستان کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں درست سمجھتی ہے تو ان تمام اور کے متعلق بین الاقوامی عدالت کی رائے طلب کی جاسکتی ہے۔عدالت سے درخواست کی جائے کردہ فریقین کے تمام عدالت اور دلائل پر غور کرکے اس سر پر رائے دے رکشن کی سار است شام اور ہم مجبوری نہ کی قراردادوں کے ماتحت فریقین کاکیا ذمہ داریاں ہیں۔اور دونوں فریق عدالت کی رائے کے مطابق اپنی اپنی ذمہ داری کو پورہ کریں۔لیکن ہندوستان کو یہ بھی منظور نہ ہوا۔عرض اگر کسی وقت حکومت ہند کو اپنے قول قرار کا کوئی پاس تھا بھی تو رفتہ رفتہ اس کے نمائندوں نے اپنے اعلانات اور معاہدات کو خیر باد کہہ دیا اور شروع کر دیا ہم نے تقیہ کشمیر کو ختم کردیاہے اور جموں وکشمیر کے علاقے مکت ہند کا بنز نیک بن سکے ہیں۔آزادی حاصل کرنے کے لئے کشمیریوں کی جدو جہد کشمیریوں کو حق خود ارادی دلانے کے لئے پاکستان کی مساعی ار قیام امن کے لئے مجلس ان کی تجاویز کو تو ہندوستان نے ابتک کچھ طاقت سے کچھ جس سے کچھ لیں در سے زائل وبے اثر کر دیا ہے۔بیشک اس کے نتیجے میں ہندوستان بین الاقوامی حلقوں میں اپنا وقت رکھو چکا ہے لیکن لنظا ہر مند دستانی ارباب حل و عقد نے اسے سستا سودا سمجھا ہے لیکن وہ ایک حقیقت کو بھونے ہوئے ہیں جس کے ایک پہلو کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :- مترس از آه مظلومان که هنگام دعا کردن - اجابت از درستی بهر استقبال می آید کشمیر کی مسلمان آبادی ایک صدی سے زائد عرصہ تک ڈوگرہ مظالم کا شکار رہی اور اس کے بعد زائدانہ بیس سال سے ہندوستانی مظالم سواری ہے۔ان مظالم میں تخفیف ہونے کی بجائے انکی شدت بڑھارہی ہے۔اللہ تعالی کسی ملک کسی قوم کسی گروہ کسی فرد کا محض ان کے نام کی وجہ سے حمایتی نہیں۔اس کی شان اس سے بیت بلند ہے۔لیکن وہ حتی اور ریاستی، امن اور الضان ، شفقت اور رحم ، عجز اور انکار سے ضرور محبت رکھتا ہے اور جبر اور تعدی ، ظلم اور سختی ، ایزاد ہی اور ضرور رانی اس کے غصب کو بھڑکاتی ہیں۔وہ عقوبت میں دھیما ہے مکین منظم کی فریاد کو سنتا اور آخر ظلم کو پکڑتاہے۔وہ شدید المطبش ہے اس کی گرفت بہت سخت ہے۔پاکستان اور سند دستان کے مابین مہروں کے پانی کے متعلق بھی حکومت مند کار رویہ دی ہی کرنا مہروں کے پانیوں کا تنازعہ جیسا قبضہ کشمیر کے متعلق تھا جب تک قیم ملک کی کاروائی کی | تکمیل نہ ہوئی حکومت مشرقی پنجاب اور حکومت ہند کار سے پاکستان کو ر س ے پر یقین دلایا گیا کہ ہندوستان ہوں ے پانی میں کسی سم کی دخل اندازی نہیں کرے گا البتہ ہندوستان بی ادعاکی کہ چونکہ متحدہ پنجاب کے مغربی