تحدیث نعمت — Page 546
۵۶ دتی میں پنڈت جواہر لال نہرو سے کیا اور کہا پشت اسکے کہ میں اس تجوید کی تفصیل تیار کرو میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ تفاصیل تیار ہو جانے پر پاس خونہ کے متعلق میرے ساتھ اور وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ تبادلہ خیالات پر آمادہ ہوں گے یا نہیں۔بقول سرارون بنات صاحب نے آمادگی ظاہر کی در سرارود نے پنڈت صاحب کہا کہ وہ اب کراچی جاکر وزیر اعظم پاکستان سے بھی استصواب کریں گے اور گردہ بھی تبادلہ خیالات پر رضامند ہوئے توہ تجوید کی تفاصیل تیار کر کے دونوں کواس تجویز پر تبادلہ خیالات کی دعوت دیں گے۔چنانچہ ساون کراچی تشریف لائے اور میرے اور بچہ دھری محمد علی صاحب کے ساتھ اس کے متعلق گفتگو کی ہم نے کہا کہ تونہ کی کت تفاصیل ابھی تیار نہیں۔اگر تفاصیل بیا ہ ہونے پر تبادلہ خیالات کے بعد فریقین میں اتفاق رائے نہ ہو سکا تو کیا صورت ہوگی۔انہوں نے فرمایا میں یہ واضح کردوں گاکہ ایسی صورت میں فریقین کے موقف پرکوئی کسی ستم کا شم نہیں پڑے گا اور شیر کشن کی دونوں قرار دادیں جنہیں دونوں فریق تسلیم کر کے میں بدستور قائم رہیں گی اور ر لین سپر ان کی پابندی لازم ہو گی۔اس شرط پر نوابزادہ لیاقت علی خاں صاحب نے بھی سراون ولسن کی تو یہ ہیں تفصیل تیار ہونے کے بعد تبادلہ خیالت کرنے پر آماد کی کا اظہار کر دیا۔سرداروں نے فرمایا یہ ابتدائی مرحلہ تو طے ہو گیا ابمیں اپنی بخونید کی تفاصیل تیار کر کے فریقین کو تبادلہ خیالات کی دعوت دوں گا۔چودھری محمد علی حب نے سر اردن سے کہا کہ آپ پنڈت نہر کو اطلاع کر دیں کہ چونکہ دونو فنی آپ کی یونین کی تفصیل تیار ہونے پراس پر تبادلۂ خیالات کے لئے آمادہ ہیں لہذا اب آپ نمونیہ کی تفاصیل طے کر کے انہیں مطلع کریں گے۔سراؤوں کو ابھی پنڈت جی کے طریق کار کا تجربہ نہ تھا۔انہوں نے فرمایا اس کی کوئی ضرورت معلوم نہیں ہوتی۔چودھری صاحب پنڈت صاحب کو خوب جانتے تھے اس لئے مصر ہوئے کہ انہیں بذریعہ تار ضرور مطلع کیا جائے۔ان کے اصرامہ پر رادوں تار بھیجنے پر رضامند ہوگئے اور اسی شام سراروں نے پنڈت جی کو تار دیدیا کہ جس تجوید کے خاکے کامیں نے در یکی ا ن ا وزیر اعظم پاکستان بھی آپ کی طرح اسکی تفصیل بیان ہونے پر اس پر میرے اور آپ کے ساتھ تبادلہ خیالات کے لئے آمادہ ہیں اسلئے میں اب اس تجوید کی تفاصیل تیار کر کے آپ کو مطلع کردوں گا۔دوسرے دن سراؤوں تشریف لائے۔بڑے آزردہ تھے۔فرمایا تمہیں معلوم ہے پنڈت نہرونے میرے تار کا کیا حیرت انگیز جواب دیا ہے۔دریافت کرنے پر فرمایا پنڈت جانے جواب دیا ہے۔مجھے تمہارے تارکی سمجھ نہیں آئی۔مجھے تمہاری کسی ین کا علم نہیں میرے لئے یہ بالکل یا عام ہے تم ولی ہو تو اس پر بات چیت کریں گے یا سراروں نے فرمایں اس تونیہ کے متعلق میری در پنڈت نہر کی جو گفتگو ہو وہ بالکل واضع تھی اور اسی کی نیکی کی دانانی کاکوئی مہمان نہیں۔یہ ہو سکتا ہے کہ مزید غور کرنے پر وہ ا نتیجے پر پہنچے ہو کہ میری جونیہ یہ تبادلہ خیالات کرنا ان کے مفاد کے خلاف ہے اوروہ اب اس پر آمادہ نہیں کیں ان کا یہ کہاکہ انہوںنے سے ایسی توبہ کا ذکر بھی نہیں اور ان کےلئے نیہ سنا "