تحدیث نعمت — Page 545
۵۴۵ اسلئے کچھ مہلت درکار ہے۔آخر مفتہ عشرہ کی تاثیر کے بعد ان کی طرف سے منصور گیا مگر بدین شرط کہ کمشن تو اسے ملاحظہ کرے لیکن پاکستان بلکہ مجلس امن کو بھی اس کی اطلاع نہ ہو۔چنانچہ آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہندوستان نے کیا منصوبہ پیش کیا تھا۔فوجی انخلاء کے متعلق قرار داد یہ تھی کہ قبائیلیوں اور یہ فنا گڑوں کے ریاست کی مدد سے اخراج کے بعد انی این نام کا نام اور ہندوستانی فو کا کثیر حصہ (Buy) ریاست سے نکل جائے۔جنگ بندی کے بعد قبائی اور رضا کار جو ریاست کے باہر سے لڑائی میں شامل ہوئے تھے ریاست سے چلے گئے دو کمشن کو قرارداد کے اس حصے کی تعمیل کے متعلق اطمینان ہوگیا اب سوال پیدا ہو کہ کشمیری تو ہندوستانی فوجیں داخل ہوئی تھی ان کا کثیر حصر(4) کیا قرار دیا جائے۔اسبات پرمیشن اور ہندوستانی نمائندوںکا اتفاق نہ ہو سکا۔چنانچہ کشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ہندوستان کے عیش کرد منصوبے پر تو اپنی رپورٹ میں حج کرنے کے مجاز نہیں کیونکہ ہندوستان کی طرف سے ہم ہ یہ شرط عاید کردی گئ ہے کہ منصوبے کی تفصیل کا اظہار نہ کریں لیکن صوبے پر غور کرنے کے بعدہم اس نیچے پر پنے ہیں کہ میت اور کیفت دونوں لحاظ سے ہندوستان کا پیش کردہ منصوبہ قرارداد کے ساتھ موافقت نہیں رکھتا کمشن کے الفاظ حسب ذیل تھے :۔“ NEITHER QUANTITATIVEly, Nor, QualITATIVELY DOES THE Plan ComPLY WITH THE TERMS OF THE RESOLUTION" وار اس مرحلے پرکمشن نے یہ بھی کہہ دیا کہ جنگ بندی ہو کہ حد فاصل مقرر ہوگئی ہے۔ہماری رائے میں اب مزید کا روائی کی نگرانی کے لئے کمشن کی بجائے ایک فرد واحد زیادہ موزوں ہو گا۔سرا ون ڈکسن کا تقرر بطور نمائندہ اقوام متحدہ مجلس من نے کمشن کی یہ سفارش منظور کرتے ہوئے آسٹریا کی عدالت عالیہ کے حج سرا ون ڈکسن کو تو بعد میں آسٹریلیا کے چیف جسٹس بھی ہوئے کشمیر کے قضیہ میں اقوام متحدہ کا نمائندہ مقرر کیا۔انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ رائے عامہ کے استصواب کی شرائط طے کرنے کے بعد استصواب کا انظرم کریں یا فریقین کی رضامندی سے اس قضیہ کے طے کرنے کا کوئی اور طلقی اختیار کریں۔سرارون ڈکسن نہایت قابل اور پختہ کار شخص تھے۔وہ کراچی تشریف لائے اور پھر ولی بھی گئے۔معلوم ہوتاہے وہ جلد اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم کوئی ایسی شرائط تسلیم کرنے پر بھی رضامند نہیں ہوں گے جن کے تحت آزاد در بے لاگ استصواب رائے کیا جا سکے۔اس نتیجے پرپہنچنے کے بعد انہوں نے اس قضیہ کو سلجھانے کیلئے کسی اور مناسب اور موثر طریق پر غور کرنا شروع کیکہ ایک بجریان کے ذہن میں آئی جس کے خاکے تما ذکر انہوں نے