تحدیث نعمت — Page 543
۵۴۳ سونے سے سرو کار تھا۔اگر کسی وقت کمشن کے کام کیطرف توجہ فرماتے تو یہ دیکھنے کے لئے ایکشن کا کوئی اندام نڈت جواہر لال نہرو کی طبع نازک پہ گراں تونہیں ہوگا۔ریاستہائے متحدہ امریکہ کےنمائندے کچھ تو جہ زمانے تھے لیکن ان کی شرافت ان کی ہمت پر غالب بھی کولمبیا کے نمائندے ڈاکٹر کو سب سے دوسر درج پر تھے اور ا ہوں نے این زندگی کا کچھ شوت دیالیکن ان کے لئے بڑی مشکل تھی کہ انگریزی زبان کی واقفیت بہت محدود تھی۔ارجنٹائن کے نمائندے پرلے درجے کے شریف اور اس درجہ باستیا تھے کہ ان کے لئے بات کرنا دو بھر تھا۔کمشن نے جس حدتک اپنے فرائض کو سر انجام دیا اس میں ساٹھ فیصدی ڈاکٹر کو ریل کا حصہ تھا منیش منصوری امریکی نمائندے کا اور بنی فیصدی کو مبین نمائندے کا۔ڈاکٹر کور تیل لاء کے شروع میں کمشن سے علیدہ ہو گئے۔ان کی علیحدگی کے بعد کمشن نیم مردہ ہو گئی اور تھوڑے عرصے بعد اس نے دم توڑ دیا۔ڈاکٹر جوزف کور تیل رکن کشمیر کمشن | ڈاکٹر وزن کو سیل کشن پر فقری کے وقت چکوسلواکیہ کے سفیر تعین بگاڑ تھے۔چیکوسلواکیہ کوہندوستان نے کشن کاری نامزد کیا تھا ان کی رکنیت کے دوران میں چیکوسلو کی تراکیت کے زیر اثر آناشروع ہوگیا۔اپنے وطن کے رجحان سے خائف ہو کر انہوں نے شام کے شروع میں ہی یہ انتظام کیا کہ ان کے بیوی بچے لندن چلے جائیں۔کمشن سے متعفی ہونے پر وہ خود بھی لندن چلے گئے اور وہاں سے بیوی بچوں کیت امر یک لے گئے۔وہاں ڈینور یونورسٹی کے شعور سوشل سائیں فونڈیشن میں پروفیسر ہو گئے اور اب چندسالوں سے فونڈیشن کے ڈائرکٹر اور یو نورسی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ ہیں۔میرے تو مرام ان کے ساتھ کشن کے سلے میں قائم ہوئے تھے وہ ان کے کمشن سے مستعفی ہونےکے بعد بھی قائم رہے اور تیرے مضبوط ہوتے گئے حتی کہ ان مرام نے گرا دوستانہ رنگ اختیار کرلیا۔مجھےکئی باران کے توسل سے ڈینو یونیورسٹی میں تقریر کےلئے اور دیگر قادر کے لے میں جانے کا اتفاق ہوا ہے اور ہر موقعہ پر ان کی طرف سے بڑھی تواضع اور شفقت کا سلوک ہوا۔منجزاہ اللہ۔ایک موقعہ پر میں ڈینور میں انکے ہاں گیا ہوا تھا ان کے بیوی بچوں کے ساتھ تھے مکلی موت کی تھی۔میں نے باؤل باتوں میں ان کے صاحبزادے کسے کہ جب تمہارے ابا کی میں سے ہیں تجھ سے لے تو یہ مجھے کھو شہ کی نظر سے دیکھتے تھے اور واقعات پر بھی جب تک پورے طور پر اپنا اطمینان نہ کر لیتے تھے میری بات کا انہیں اعتبار نہیں ہوتا تھا۔اس وقت ڈاکٹر کور بل بھی موجود تھے اور یہ بات در اصل میں نے انہیں سنانے کے لئے کسی بھی۔وہ نہایت سنجیدہ مزاج میں میری بات پر کرائے اور کہانہیں یہ بات نہں کمیشن کے سب اراکین تم سے کچھ خالف تقض درستے لیکن یہ ساس ہماری قابلیت کی وجہسے تھا۔میں تمہارے تعلق کوئ کے اعتماد برگہ نہیں تھی۔ہاں شروع شروع میں ہم سب کو یہ اس اس ضرور تھا کہ مسٹرمحمدعلی اور تم دونوں پنڈت جواہر لال نہرو کی کسی بات کو محض ان کے کہنے پر قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے اور انکی ہر بات کا تختہ یہ میں ہونا اور واضح الفاظ میں ہونا ضروری سمجھتے تھے۔