تحدیث نعمت — Page 542
۵۴۲ ثبوت 19 ہلے ہفتے میں پاکستانی افواج نے جنگی کشمش میں لینا شروع کردیا پاکستانی افواج کا ان پر بھیجا جانا کوئی خفیہ اقدام نہ تھانہ ہی ایسا اقدام منفیہ رہ سکتا تھا۔چند ماہ بعد پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی تقریروں میں کہنا شروع کیا کہ پاکستان کا وزیر خارجہ مجلس امن کے سامنے تو کہتا رہا کہ سماری با قاعدہ فوج تنگ میں شامل نہیں لیکن ہمیں شروع می شکار میں ثبوت مل گیا کہ پاکستانی فوج جنگ میں حصہ لے رہی ہے اس طرح پاکستان کا وزیر خاریہ مجلس امن کے سامنے صریح غلط بیانی کا مرکب ہوا۔لیکن جب ہم نے کشن کے آنے پرکشن کے رو برو انجمن کنکشن پرکشن کے رو میر کرایا تو اچار پاکستان کوتسلیم کرنا پڑا کہ ان کی باقاعدہ اور نماز جنگ پر معروف پیکارہے۔مجلس با فوج امن میں میرا یہ بیان جنوری اور ضروری شالہ میں ہوا تھا اور ہماری با قاعدہ فوج کا محاذ پر بھیجا جانا آخر اپریل یا شروع مئی ماہ میں عمل میں آیا اس لئے وہ بیان بالکل درست تھا۔اقوام متحدہ کی کشمیر کمشن کے اراکین سیلی بار جنیوا سے ، جولائی شادی کو کراچی آئے پہلے دن وہ مجھ سے درسبھی ملاقات کے لئے میرے ہاں تشریف لائے میں نے اپنے ملاقات کے کمرے میں محاذ کے نقشہ بات اکوا دیے تھے۔بچائے اور رسمی گفتگو سے فارغ ونے کے بعدمیں نے انہیں بتایا کہ میں امن کی کاروائی ختم ہونے کےبعد ہندوستانی فوجی تیاریوں کے پیش نظر پاکستان افواج کے کمانڈر انچیف کے مشورے کے مطابق نہیں دفاع کے لئے ان فوج کو محاذ پر بھی نا اہم ہوگیا اور شروع مٹی سے تجاری با قاعدہ فوج کے دستے محاز پر برسر پیکار ہیں۔نقشوں کی مدد سے میں نے سب تفصیل اکشن پر واضح کر دی۔اس سے قبل کمشن کو اس امر کی اطلاع کسی اور ذریعے سے نہیں پہنی تھی اور دی تو اسی مشن کا جانا ہی نہیں ہوا تھا۔لہنا پنڈت نہرو کا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ جب ان کی طرف سے پاکستان افواج کے محاذ پر ہونے کا یوتکشن کے دور پر پیش کردیا گیا توپاکستان کو کشن کے روبہ اس امر کو سلیم کرنے کے سوا چارہ نہ دیا کمشن و اس اقدام کی طلا م ن و ی ت ا ا ا ا ا ا ن نے پہلی ملاقات میں کردی تھی۔اقوام متحدہ کی کشمیر کمیشن کے اراکین کمشن کے سپرد جو کام کیاگیا تھا وہ نہایت ہی اہم اور بہت زوراکی کا تھا لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ متعلقہ حکومتوں نے اس کام کی اہمیت کو مناسب وقعت نہ دی اور اپنے نمائندوں کے انتخاب میں نہایت سہل انگاری سے کام لیا کشن کے اراکین بلاشبہ شرفاء تھے لیکن سیاسی سوجھ بوجھ ہمت اور حوصلے کے لحاظ سے اس در تخت تک نہیں پہنچتے تھے جوان کے فرائض کی کما حقہ ادائیگی کے لئے ضروری تھا۔ان میں سے صرف ایک رکن ان غربیوں کے مناسب حد تک حامل ثابت ہوئے ہو ان کے فرائض کی کامیاب ادائیگی کے لئے لازم تھیں۔وہ چیکوسلواکیہ کے نمائندے ڈاکٹر جوزف کو بیل تھے۔جنہوں نے کمشن سے علیحدگی کے بعد کمشن کی سرگرمیوں کے متعلق ایک کتاب ANGER IN KASHMIR " شائع کی اس کتاب کا نیا ایڈ مشین کے شروع میں شائع ہوا ہے۔بلیجیم کے پہلے نمائندے ایک عمر رسیدہ BARRON تھے جنہیں صرف کھانے پینے اور 1