تحدیث نعمت — Page 541
المه رار پایا کیوں کہ شیر کےعلاوہ جونا گڑھ کا فی العین اور اور بھی جو پاکستان کی طرف سے پیش کئے گئے تھے اس کمشن کے سپرد تھے لیکن عرف عام میں اس کمشن کا نام کشمیر کمشن کی مشہور ہوا۔قرار داد کے منظور ہونے تک ہندوستان کا یہی موقف تھا کہ مجلس امن لڑائی بند کرانے کا انتظام کردے باقی سب امور وہ خود سے کر لیں گے۔جب انہوں نے دیکھا کہ مجلس امن اصل نزاع کا فیصلہ اپنی نگرانی میں کرانے پر مصر سے تو انہوں نے اپنی فوجی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا تہیہ کر لیا۔جب حکومت ہند کے اس عزم کی بھنک ہمارے کانوں میں پڑی توسم ابھی نیو یارک ہی میں تھے چنانچہ چودھری صاحب نے اور میں نے اس اقدام کے متعلق مشورہ کیا اور میری یہ پختہ رائے ہوئی کہ ہمیں ہندوستان کے اقدام کی روک تھام کے لیئے ن و مامان پر بھی دینی چاہیےاور میںنے اردہ کیا کہیں این اے کی طلا و وزیر اعظم لیاقت علی خاں کی نذت من بھیج دوں۔چودھری صاحب کو اگر بچہ حالات کے لحاظ سے یہ خدشہ تو محسوس ہوتا تھا کہ ہندوستان جنگی فیصلے کی کوشش کرے گا۔لیکن انہیں آیا مشورہ تار کے ذریعہ بھیجنے میں تامل تھا ان کے خیال میں CYPHER کے ذریعے سے پیغام بھیجا محفوظ طریق نہ تھا۔انہیں اندیشہ تھا کہ بات ظاہر ہو جائے گی اور ہم مجلس امن کے رو برید یا الزام ہوں گے۔انہوں نے جونیہ کی کہ وزیراعظم کی قدر میں پیغام ایک خاص قاصد کے ہاتھ بھیجا جائے میں نے کہا مر حلہ بہت نازک ہے اور مکن ہے تا غیر خطرے کا موجب ہو۔بات نکل جانے میں کوئی ہرت نہیں۔مجلس امن اپنا وقار بہت مایک کھو چکی ہے۔اگر انہیں پنڈت جواہر لال نہرو کو کچھ کہنے کی ہمت ہیں تو ہمیں کیا کہ لیں گے۔اگر ہم مجلس امن کے خوف سے فاضل سمجھے رہے تو جو نقصان بھی پہنچے گا اس کا انزال بعد می نہیں ہور سکے گا۔ممکن ہے چودھری صاحب مجھ سے متفق نہ ہوئے ہوں لیکن انہوں نے نا چار رضامندی کا اظہار کر دیا ناچار میں نے اس مضمون کا تار وزیر اعظم کی خدمت کاروبار میں نہیں ہوگا لینا ندوستان کی فوجی تیاری کے پیش نظر لازم ہے کہ ہم اپنی باقاعدہ فوج محاذ پر بھی دیں وزیر اعظم صاحب نے میرا تا ملنے پرکمانڈر انچیف سرڈگلس گریسی کو ہدایت دی کہ وہ کشمیر کے محاذ کے متعلق موجودہ حالت کی روٹے پیش کریں۔چنانچہ انہوں نے رپورٹ پیش کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستانی افواج بڑی متعدی سے اور بڑے پیمانے پر آگے بڑھنے کی تیاری کر رہی ہیں۔اس صورت میں آزاد کشمیر کے فوجی دستے ان کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے اور نہ صرف آنها در شیر کے علاقے بلکہ خود پاکستان کے بعض علاقے خطرے میں پڑ جائیں گے اور ممکن ہے منگلا کے مقام پر ہنر کے ہیڈ ورکس بھی ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں۔ان کی بھی یہی رائے تھی کہ اس خدشے کے دفاع کے لئے میں اپنی فوج محاذپر بھیج دینی چاہیے۔وزیر اعظم صاحب نے جو وزیر دفاع بھی تھے اس رپورٹ کے نتیجے میں پاکستانی فوج کے محاذ پر بجھے جانے کے احکام صادر فرمائیے۔چنانچہ اپریل کے آخری ہفتے اور مٹی کے