تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 534 of 736

تحدیث نعمت — Page 534

۵۳۴ ردستان چھ اطمینان تھاکہ اراکین مجلس نے اندازہ کر لیا ہوگا کہ گریٹر سیلواو کو درشت کلامی پر اترنا پڑا ہے تویہ ان کے موقف کی کمزوری کا ثبوت ہے۔چنانچہ اس ضمن میں میں نے اپنی جوابی تقریر میں صرف آنا سی کہا۔جناب صدر و اراکین مجلس کھیلے اجلاس میں میرے فاصل دوست مسٹر سیلواڈ نے اپنی تقریر میں مرے متعلق کچھ دوست الفاظ استعمال کئے تھے ان کے متعلق مجھے یہ کہا ہے کہ میں سٹر سیلواڈ کو عرصہ سے جانتا ہوں جب میں ہندوستان کی فیڈرل کورٹ کا اج تھاتو مجھے بارہا ان کے دلائل سننے کا اتفاق ہوا۔میری رائے میں سرست الواد ہندوستا کے قابل ترین وکیل ہیں اور درشت کلامی ان کا شعار نہیں۔اس موقعہ پران کے موقف کی کمزوری کو جانتے ہوئے میں انکی مشکلات کا اندازہ کر سکتا ہوں۔مسٹر سیلواڈ کی درشت کلامی ایک استثنائی صورت تھی جو قابل اعتنا نہیں۔اس کے بعد میں نے انکی تقریر کی طرف توجہ دلائی ان کے دلائل اور واقعات پر سلسل اور فضل اللہ موثر تنقید کی۔اس کے بعد کئی بارمسئلہ کشمیر بحث ہوئی ہے لیکن میری موجودگی میں نہ تو کبھی پاکستان کی طرف سے نہ ہی سند دوستان کی طرف سے کبھی درشت کلامی کی گئی ہے ، اقوام متحدہ میں یہ بات مثل بن گئی کہ با دود شد یا اختلاف کے دونوں فریق کے نمائندے ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے اور واقعات اور دلائل کو مضبوطی سے پیش کرنے کے ساتھ یہ التزام رہا تھا کہ کلام میں ے جاتلی نہ ہو۔مسٹر کرشنا مین لیکن افسوس ہے کہ جب مٹر کرشنا مین نے ہندوستان کے نمائندے کے طور پر کشمیر کے مسئلے کی بحث میں حصہ لینا شروع کیا توان کی طرف سے یہ معیار قائم نہ رہا لیکن وہ بھی اتنی احتیاط کرتے تھے که میری موجودگی میں کوئی بے جا فقط استعمال نہیں کرتے تھے۔جن دنوں میں پہلی بار بین الاقوامی عدالت کا رکن تھا تو مجلس ان میں پاکستان کی طرف سے یہ تو یہ سرائی گئی کر کمر کش کی تجاویہ کی قبر کے متعلق فریقین کے درمیان جو اختلاف ہے اس کے لئے بین الاقوامی عدالت سے استصواب کیا جائے اور کمشن کی تجاویہ کی تو تعبر عدالت کرے دونوں فراق اسے قبول کریں اور اس کے مطابق عمل کریں۔مرکرشنا مین نے ہندوستان کی طرف سے اس تجویز کو رد کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی کہ وہ نذر ہی دیوانہ خاکسار) عدالت کا رکن ہے اور اگر چہ وہ اس معاطے ہیں اجلاس میں شرکت نہیں کہے گا لیکن اس کا رکن ہونا ہی ہمارے لئے بے اطمینانی کا موجب ہو گا۔بعد میں جب میں " اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل نمائندہ تھا تو میں نے پھر اس تجونیہ کا اعادہ کیا اور کہا کہ اب تودہ مذہبی دیوانہ بین الاقوامی عدالت کارکن بھی نہیں اب اس تجویز کو مان لینے میں کیا عذر ہے ؟ اس پر مسٹر کی شنا مین نے اپنی نشست پر بیٹے بیٹے مڑ کر اپنے ایک سیکر ٹڑی سے دریافت کیا گیا میں نے سے مذہبی دیوانہ کہا تھا ؟ سیکریٹری نے اثبات میں سر ہلایا۔