تحدیث نعمت — Page 506
۵۰۶ اطلاع ملی کہ وہ کیا ہوئے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی طر مسلم لیگ صورت الیت های انان می شد اعمال منه ان دنوں کے کیس کی تیاری میں گراں قدر امداد - لا ہورہی میں تشریف فرما تھے بدھ کی سہ پہر کو مولانا عبداله تیم در دو صاحب تشریف لانے اور فرمایا حضرت صاحب نے یہ دریافت کرنے کیلئے مجھے بھیجا ہے کہ حضور کس وقت تشریف لاکر تمہیں تقسیم کے بعض پہلوؤں کے متعلق معلومات بہم پہنچا دیں۔خاکر نے گذارش کی کہ جس وقت حضور کارت ویو خاک در حضور کی خدمت میں حاضر ہو جائے گا۔درد صاحب نے فرمایا حضوری کا ارشاد ہے کہ تم نہایت اہم قومی فرض کی انجام دی میں مصروف ہو تمہارا وقت بہت قیمتی ہے تم اپنے کام میں لگے رہو ہم میں تشریف لائیں گے موجودہ حالات میں میں مناسب ہے۔چنانچہ حضور تشریف لائے اور بٹوارے کے اصولوں کے متعلق بعض بہایت مفید حوالوں کی نقول خاک رکو عطائیں اور فرمایا اصل کتے کے منگوانے کیلئے ہم نے انگلستان فرمائش بھی ہوئی ہے اگروہ کتب بروقت بن گئیں وہ بھی تمہیں بھیج دی ائیں گی۔نیز ارشاد فرمایا نے اپنے خرچ پر دفاع کے ایک ہی یہ رویہ کی خدمات انگلستان سے حاصل کی میں وہ لاہور پہنچ چکے ہیں اور نقشہ جات وغیرہ تیار کرنے میں مصروف ں یہ تحریری بیان تیار کر لینے کے بعدان کے ساتھ مشورے کیلے وقت نکال لیا۔وہ یہاں آکر تمہیں یہ پلو سمھا دینگے۔چنانچہ متعلقہ کتب انگلستان سے قادریان پہنچیں اور وہاں سے ایک موٹر سیکل سوار انہیں سانڈ کار میں رکھ کر لاہورے آئے اور دوران بحث وہ ہمیں میسر آگئیں ان سے کہیں بہت مدد لی۔پروفیسر سیٹ نے دفاعی پہلو مجھے خب سمجھا دیا۔ہندو فریق کی طرف سے مسٹرایم ایل سیلواڈ نے ہندوستان کے دفاع کی ضروریات کی بنا پر بڑے زور سے دریائے جہلم تک کے علاقے کا مطالبہ کیا۔لیکن میری طرف سے پروفیہ سپیٹ کے تیارہ کردہ نقشہ جات کے پیش کرنے اور ان کی اہمیت واضح کرنے کے بعد فراق مخالف کی طرف سے کوئی معقول جوا اس موضوع پر نہ دیا گیا۔بحث کے دوران میں حضرت خلیفہ المسیح الثان خود بھی اجلاس میں تشریف فرما ہے۔اور دعا سے مدد فرماتے ہے۔فجزاء اللہ احسن الجزاء جٹس دین محمد صاحب کا انکشاف کہ پنجاب بدھ کی شام کو جیٹس دین محمد صاحب تشریف لائے وہ کی حد بندی کی لائن بالا بالالے پا کچا ہے اور بہت پریشان معلوم ہوتے تھے۔فرمای تم اپنی طرف سے حد بندی کمیشن کی کاروائی ایک ڈھونگ ہے تحریری بیان تیار کرو اور جیسے بن پڑے بحث بھی کرنا لیکن میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ یہ سب کا روائی محض کھیل ہے۔بعد بندی کا فیصلہ ہو چکا ہوا ہے اور اسی کے مطابق حدبندی ہوگئی۔میں نے پوچھا آپ کو یہ کیسے معلم ہوا۔انہوں نے فرمایا کل جب تم لوگ پہلے گئے تو رسول ریڈ کلف نے نہیں بتایا کہ وہ کل صبح ہوائی جہازمیں اردگر کا علاقہ دیکھنے جائیں گے اس پرمیں نے کہا اگر آپ حدبندی کے سلسلے میں متنازعہ علاقہ کیلئے دیکھنے جارہے ہیں تو آپ ضرور اس معائنے سے کچھ تاثر میں کے بطور امپائر آپ