تحدیث نعمت — Page 32
پھیروں میں جاسکا۔ان میں ہر ایک شرم میں شام کے تین کھانوں میں شمولیت لازم تھی ان میں شامل شامل ہونے میں بینے کبھی کو تا ہی نہ کی۔انٹر میڈیٹ کے بعد ایل ایل بی کا کورس مزید دو سال کا تھا۔ان سالوں میں کا من لاء کے پروفیسر مسٹر گرفتھ تھے۔ان کا طریق تھا کہ جب کوئی مسئلہ واضع فرما دیتے تو اس کے متعلق فور سوال کرتے تاکہ معلوم ہو جائے کہ مسئلہ طلباء کے ذہن نشین ہو گیا یا نہیں۔ان کے سوال کرنے پر میں ہمیشہ ہاتھ کھڑا کر دنیا اوروہ اگر مجھ سے ہی جواب پوچھ لیتے۔میرا جواب عضلات ہمیشہ صحیح ہوتا۔جس پر خوش ہو کہ میری حوصلہ افزائی فرماتے۔میں اور توجہ سے انکی بات سنتا کبھی کبھی تحریری سوال جواب بھی ہوتے۔میرے جواب پر ہمیشہ کوئی خوشنودی کا جملہ لکھتے۔ایکوئٹی کے پروفیسر مسٹر ہرسٹ تھے۔اپنے مضمون میں بڑے طاق تھے اور بڑی توجہ سے پڑھاتے تھے۔درمیانی سال کے دوران ہی میں مجھے فرمایا۔بابر کا آخری امتحان جلد ختم کر لوتاکہ یونیورسٹی کے آخری امتحان کی طرف زیادہ توجہ کر سکو در کوشش کرد که آنرز میں اول درجہ حاصل کر سکو تہ سے سے یہ بڑا امتیاز ہوگا۔میں نے ان کے مشورے کے مطابق آپ پروگرام بنا لیا۔آخری سال میں انہوں نے میرے ہم جماع میسر نمیرسین سے اد مجھے فرمایا کہ اگرتم تین چار دفعہ میرے چیمبر میں آسک تومیں تمہیں کچھ مزید ہدایات بھی دوں اور بعض مقامات کے متعلق مزید وضاحت بھی کر دوں۔یہ انکی حد درجہ کی عنایت تھی کیونکہ بہت مصروف رہتے تھے۔پروفیسری کے کام کے علاوہ ان کے پاس بہت قانونی کام ہوتا تھا۔اس کے باوجود انہوں نے دو غیر ملکی طالب علموں کیلئے اپنے نہایت قیمتی وقت میں سے کئی گھنٹے نکال کر ہمیں امتحان کی تیاری میں بہت قیمتی مدد دی۔کسی نیس وغیرہ کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔محض ہماری ہمت افزائی کی خاطر انہوں نے یہ تکلیف گوارا فرمائی۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر ہے۔ہمارے ایل ایل بی کے امتحان کے نو پر چھے تھے۔پانچ مضامین کا ایک ایک پر چہ اور چار مضامینمیں آمنہ کا ایک ایک زائد پہ چپہ پروفیسر سرسٹ ان نو پر چوٹی میں سے چار پر چوں اور پاس اور دو آنرنہ ) کے جائنٹ ممتحن تھے۔ان کی توجہ سے مجھے تو بہت ہی فائدہ پہنچا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل رحم سے ان کی توقع بھی میر سے تعلق پوری کر دی۔اہل ہیں نی کے امتحان میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اس کی ذرہ نوانی سے میں اول درجہ کی آزی مینی یوٹی بھر میں اول رہا۔فالحمد للہ علی ذالک۔یہ اعزا نہ مجھ سے پہلے کسی ہندوستانی طالب علم کو حاصل نہیں ہوا تھا۔بعد کا حال میں نہیں جانتا۔رئیل پراپرٹی مضمون کے پروفیسر مسٹر میکے تھے۔جو بہت قابل تھے لیکچر بہت محنت سے تیار کر تے تھے۔جماعت میں داخل ہوتے ہی اپنی نوٹ بک کھول کر لکھوانا شروع کردیتے تھے اور پیریڈ ختم ہونے تک ایک ہی رفتار سے لکھواتے پہلے جاتے تھے۔میں جلدی جلدی مپنسل سے پوری