تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 33 of 736

تحدیث نعمت — Page 33

۳۳ عبارت جیسے بن پڑتا نوٹ کر لیتا۔دوسری صبح صاف کر کے اور پوری طرح سمجھ کر نقل کر لیا۔ایک گھنٹے کے لیکچر کوصاف کرنے اور لکھنے پر دراڑھائی گھنٹے صرف ہوتے لیکن اس کے بعد کسی اور مطالعہ کی حاجت نہ رہتی۔وہی صاف کردہ نوٹ تو جہ سے پڑھ لینا کافی ہوتا۔جورکس پرو ڈنس۔ضابطہ دیوانی اور شہادت کے مضامین کے پروفیسر ڈاکٹر مل بیٹ تھے۔وہ بھی نوٹ لکھوانے پر ہی اکتفا کرتے۔ان کے اول الذکر مضمون کے نوٹ تو میرے بہت کام آئے شہادت اور ضابطہ دیوانی پر ان کے لیکچر میں محض بار کے امتحان کی خاطر ستارہا۔درینہ یہ ایل ایل بی کورس میں میرے مضامین میں شامل نہیں تھے۔کمرشل لا میں سے النالو عنسی کے پروفیسر سہ آرتھر ہیچ تھے۔اور بقیہ حصے پر وفیسر مسٹر رائٹ تھے۔بعد میں وہ لارڈ آف اسپیل ہوئے اور مجھے پر لوری کو غسل میں ان کے سامنے پیش ہونے کا اتفاق بھی ہوا۔ایک دفعہ تعطیل میں تفریح کے لئے پاکستان بھی تشریف لائے۔لمبی عمر پائی فوت ہوئے پچند سال ہی گزرے ہیں۔کورس کے آخر میں مجھے تو سرٹیفکیٹ دیا اس میں بڑے تعریفی الفاظ استعمال فرمائے بشرع محمدی کے پروفیسر سٹرنیل تھے۔تو سہندوستان کے صوبہ متوسط میں جوڈیشنل کمشنر رہ چکے تھے۔طبیعت کے علیم تھے مزاج بہت شریفانہ تھا نوٹ لکھوانے پر اکتفا کرتے تھے۔بار کے انسانوں کے لئے میں نے شروع میں ہی ایک پروگرام تجویز کرلیا تھا اس کے مطابق بفضل اللہ میں نے ستمبر تک بار کے امتحانوں کا پہلا حصہ مکمل کر لیا۔صرف آخری امتحان رہ گیا تو میں نے بفضل الله ستجبر اء میں پاس کر لیا۔یونیورسٹی کے امتحانوں میں سے انٹر میڈیٹ سولائی اہ میں اور فائنل اکتو بر شاہ میں پاس کیا۔یونیورسٹی کے لیکچروں کی تقسیم اس طور پر تھی کہ فائنل امتحان کے اکثر مضامین کی تیاری سہ کے اکتوبر تک مکمل ہو سکتی تھی۔اور کچھ مزید کوشش سے باقی مضامین بھی اس وقت تک مکمل کئے جاسکتے تھے۔اس اندازے کے مطابق میرے ہم جماعت مسٹر محمد حسن حباب (امرتس نے اور میں نے یونیورسٹی میں درخواست دی کہ ہمیں اکتو بر تشدید میں فائنل امتحان میں میٹھنے کی اجازت دی جاے لیکن در خواست منظور نہ ہوئی۔جون 1910ء میں مجھے بیرسٹری کی سند مل گئی۔لیکن ایل ایل بی کے فائنل امتحان کے لئے مجھے اکتو بہ تک لندن میں ٹھہر نا تھا۔اس اثنا میں اگست کے شروع میں پہلی عالمی جنگ بپھر گئی۔پائل آمد درخت پر بہت کی پابندیاں عائد ہو گئیں۔میرا ارادہ تھا کہ میں واپسی کے سفر کے دوران میں فریضیہ می ادا کردوں اور روضہ نبوی پر حاضر ہو کہ دعا کرنے کی سعادت حاصل کروں۔اس نیت سے میں نے جون ء میں ہی جاتے تک سفر کرنے کا انتظام کر لیا تھا۔اور ٹکٹ بھی خرید لئے تھے۔استخان ارا کتو بہ کو ختم ہونے والا تھا۔اور اس سال حج کی تاریخیں اس اکتوبر، یکم نومبر اور ۱۲ نومبر تھیں۔اپنی کیمطابق میں نے سفر کا انتظام کیا تھا۔لیکن جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے لندن سے مار سلیز تک ریل کا سفر بند ہو گیا