تحدیث نعمت — Page 477
الم جائے گا۔اندریں حالات قرین قیاس ہے کہ اسہیل کی اجازت مل جائے گی اور یہ مسلہ جلد یہ لیوی کو نسل کے زیر غور آجائے گا۔چونکہ فیڈرل کورٹ کے فیصلے سے بھی اپیل پر لوی کونسل میں جاسکتا ہے اسلئے حکومت کی ہدایت پر میری درخواست ہے کہ موجودہ اپیل کی سماعت کو پریوی کونسل کے فیصلہ تک ملتوی کر دیا جائے۔یہ سنتے ہی تیرے ج نے کہا مجھے التوا کی در خواست سنکہ حیرت ہوئی ہے فیڈرل کورٹ کی جی پر مرا عارضی نظر اس بنا پر کیا گیاتھا که معاملہ نہایت اہم ہے اور اس کی فوری سماعت لازم ہے۔مجھے اپنی بقیہ رخصت ترک کر کے کشمیر سے دتی کی گرمی میں آنا پڑا۔تین دن سے سماعت جاری ہے۔میرے رفقاء کے تنقیدی الفاظ سے اندازہ کر کے کہ انکی رائے ممکن ہے آرڈنینس کے جواز کے خلاف ہو حکومت اس مرحلے پر سماعت کا التوا چاہتی ہے۔میری رائے میں ایسی درخواست غیر واجب ہے۔میں نے سر بی ایل متر سے دریافت یا آپ درزیرہ ہند کے تار کی نقل پیش کر سکتے ہیں ؟ انہوں نے مسٹر شیو یکیں لال جائنٹ سیکریٹری وزارت قانون کی طرف دیکھا جو ان کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے میرشو یکیں لال نے بڑے زور سے نفی میں سر ہلایا۔اس پر سر بی ایل مرنے کہا کہ دری ہر بند کے تار کی نقل پیش نہیں کی جاسکتی۔میں نے ایڈوکیٹ جنرل سے کہا کہ جب آپ دہ دستاویز عدالت کو دکھانے سے گریہ کرتے ہیں جس کی بنا پر آپ ساعت کے التوا کی درخواست کرتے ہیں تو کیا آپ جائز طور پر توقع رکھ سکتے ہیں کہ عدالت آپ کی درخواست کو منظور کرے چنانچہ التوا کی درخواست نا منظور ہوئی اور سماعت جاری رہی۔فریقین کی تفصیلی بحث پر غور کرنے کے بعد مری اور عارضی چیف جسٹس دردا چاری کی میں رائے بہوئی کہ آرڈنیس کی وہ شق میں میں محبر میٹ ضلع کو اختیا نہ دیا گیا ہے کہ ایک خاص قسم کے مقدمات میں سے جن مقدمات کو وہ چاہیں ایک خاص عدالت کے سپرد کر دیں۔ضلع کو ایک حد تک قانون ساندی کے اختیارات تفویض کر تی ہے اور آئین کی رو سے گور نہ منزل کو ایپ کرنے کا اختیارنہ نہیں اسلئے آرڈینینس کی یہ شق غیر آئینی ہے۔اور اس کے نتیجے میں آرٹڈ نیس کی باقی شقی اقبال عمل رہ جاتی ہیں۔میرے بیج نے ہماری رائے سے اختلاف کیا اور فیصلہ کثرت رائے کے مطابق صادر ہوا۔مہاراجہ نابھہ کی اہلیہ صاحبہ کا حکومت مدراس مہاراجہ نابعہ انگریزی حکومت کی نظروں میں معتوب اور اس کے پیندیلولیس افسران کے خلاف دعوی ہو گر ریاست کی گدی سے دست بردار ہوئے اور انہیں صوبه مدراس میں کو ڈائی کنال کے پہاڑی مقام کے میونسپل حدود کے اند یہ نظر بند کر دیا گیا۔ان کے فرزند ان کی جگہ گدی نشین ہوئے اور مہارانی صاحبہ نے اپنے فرنہ ند کے پاس ہی رہنا پسند کیا۔چند و نادار میر اور خادم مہا راجہ صاحب کے ساتھ کو ڈائی کنال چلے گئے۔ان میں سے ایک مہاراجہ صاحب کے ڈاکٹر بھی تھے کوڈائی کنال میں رہائش اختیار کرنے کے کچھ عرصہ بعد مہا راجہ صاحب نے ان ڈاکٹر یا سب کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی اور اس خاتون نے بھی اپنے آپ کو خود ہی مہارانی نا بھہ کا لقب ہے کیا اگر چہ حکومت کے ہال مہارا جی