تحدیث نعمت — Page 458
۵۸مم یہ میاں نے اور آپ نے ۲۱ کردو مویل روڈ میں ہندوستانی طلباء کو ایک استقبالی دعوت سے نواند انتھا۔میں بھی اس دعوت میں شامل تھا۔ان دنوں آپ کو مدراس سے واپس آئے تھورا ہی عرصہ ہوا تھا۔فرمایا یہ تو کوئی تیس سال کی بات ہے کیا تمہیں اب تک یاد ہے۔اتنے میں ملکہ تشریف لے آئیں اور ہم سب چائے کی میز کے گرد بیٹھ گئے۔بالکل سادہ اور بے تکلف تقریب تھی مجھ کسی پریشانی کا سامنانہ ہوا۔گفتگو کے دوران معلم ہوا کہ میرے اورمیں کینیا کے گورنر باران آن تیلون کے نہ منزل ہاں مہمان ہونے کا مکہ کو علم ہے۔اس سے می نے اندازہ کیا کہ گورنر جنرل کی بیک اور شہزادی امی کومنٹس آن استخلون م نے میرے متعلق مکہ سے ذکر کیا ہوگا جس کے متھے میں ملکہ نے مجھے حاضری کا ارشاد فرمایا۔ان آن ایلون مسکہ میری کے بھائی تھے اور ان کی بیگم شہزادی ایلیس ملکہ وکٹوریہ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے پریس لیو لو لڈ ڈیوک آن آلبنی کی اکلوتی بھی تھیں۔مار پہ ہم میں قصر بنگھم میں ایکپارٹی کے موقعہ پر مجھے انسے ملنے کا پھر اتفاق ہوا اور ی نے ان سے دریافت کیا کیا آپ ہی نے ملکہ میری کی خدمت میں تحریکی تھی کہ وہ مجھے اپنی مہانی کا فخر بخشیں انہوں نے فرمایا اں میں نے ہی انہیں لکھا تھا۔اوروہ تم سے مکر ہت خوش ہوئیں۔چائے کے بعد مکہ مجھے اپنی نشست گاہ میں سے گئیں اور آدھ گھنڑ بھر سے زاید بات چیت ہوتی رہی۔ملک معظم جارج پنجم کی عمرسی میں جشن تاجپوشی کے لئے اپنے سفر ہند کا ذکر کیا اس پر قریب ۲ سال کا عرصہ گذر چکا تھالیکن ان کی یاد داشت بالکل صاف تھی۔جس بات پر مجھے بہت تحجب موادہ یہ بنی کہ ان کا ہندوستانی الفاظ کا تلفظ نہایت صحیح تھا۔میںنے اس کا ظہار کیا تو فرمایا تم سے پیس کر مھے بہت خوشی ہوئی ہے۔میں نے انگلستان سے روانہ ہونے سے پہلے خاص طور پر یہ اہتمام کیا تھاکہ میں ہندوستانی الفظ اور ناموں کا صحیح تلفظ سیکھ لوں۔مجھے یہ بات بے حد نا پسند ہے کہ غیر زبان کے الفاظ اور ناموں کو بگاڑ کر بولا جا میں اسے پرلے درجے کی بد خلقی سمجھتی ہوں۔ہمارے افسران کی یہ طرز مجھے پسند نہیں۔کپورتھلہ کہنا اتناہی آسان ے جتنا کیپر بھالا کہا اور صحیح تلفظ کان کوبھی کہیں زیادہ معلا معلوم ہوتا ہے۔حیدر آباد کو ٹائی ڈرا بیڈ اور نظام کو نانی ریم بنادیا جہالت بھی ہے اور کج خلقی تھی۔مرنے اپنے سب سے چھوٹے صاحبزادے ڈیوک آن کیٹ کی ہوائی حادثے میں المناک موت کا ذکر بھی کیا۔بڑے صاحبزادے ڈیوک آن زنڈر کا نہ انہوں نے ذکر کیا میں نے ان کا ذکر چھڑ نامناسب بجھا کیونکہ ان کے اساسات کا احرام لازم تھا۔لارڈ کلا مجھے بتا چکے تھے کہ محل کے جس حصے میں ملکہ سکونت پذیر ہیں اس کا اہتمام اور الفرام ان کے اپنے اختیارمیں ہیں۔لیکن ملکہ نے خود بھی وضاحت کردی۔فرمایا یں یہاں ڈیوک اور ڈھیں آن بو فرنٹ کی مہان نہیں ہوں اور تم بھی ان کے مہمان نہیں میرے مہمان ہو۔یوی میں نے انہیں آج شام کھانے پر بلایا ہے تاکہ تم ان سے بھی مل لو۔بہت اچھے لوگ ہیں تم ان سے مل کر خوش ہو گے۔ملکہ نے مسٹر گور کی تصنیف کردہ شاہ جارج پنجم کی سوانح عمری مجھے عنایت کی اور ایک لوط