تحدیث نعمت — Page 450
۵۰مم ہی تھا۔ملک بشیر احمد صاحب تشریف لائے اور فرمایا اگر چاہو تو پیدل ہی چلے جائیں۔میں نے عرض کی مجھے تو پیدل چلنے کا شوق بھی ہے اور ڈاکٹر کی ہدایت بھی ہے اور یہاں پیدل چلنے کیلئے موقعہ بھی بہت مشکل ملتا ہے۔مناسب ہے پیدل ہی چلیں۔امریکہ میں چونکہ مکانو کے اندر درجہ حمایت اعتدال پر رکھا جاتا ہے۔اسٹے اندر میٹھے ہوئے باہر کی سردی گرمی کا پورا اندازہ نہیں ہوتا۔ہوٹل سے نکلے تو شت کی سردی تھی۔چونکہ فاصلہ زیادہ نہ تھا خاص تکلیف کا احساس نہ ہوا۔پریذیڈنٹ روزویلٹ کے ساتھ ملاقات ان دنوں سرگر جاش که با جپائی واشنگٹن میں حکومت ہند کے ایجنٹ جنرل تھے۔انہوں نے پریذیڈنٹ روزویلٹ، چیف جسٹس سٹون اور سٹریٹس فرینک فرڑ کے ساتھ میری ملاقات کا انتظام کر دیا۔پریذیڈنٹ روز ولٹ نے دوران گنگ میں فریا میں چرچ کو مجبور تو نہیں کر سکا لیکن میں ان پر زور دینے کاکوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا کہ ہندوستان کو جلد آزاد ہونا چاہئے۔جسٹس فرنیک فریمہ سرادرس کواٹر نے مجھے جس فرینکفرٹ کے نام تعارفی خط دیا تھا۔وہ بڑے تپاک سے ملے۔میں نے ان سے ذکر کیا مجھے ذیا بطیس کی شکایت ہے۔اور میرے ڈاکٹر صاحب نے تاکید کی ہے کہ وسین جا کی ڈاکٹر موسلن سے ضرور اپنا معائنہ کر داڑی۔میں نے سنا ہے وہ نہایت مصروف اور بڑے بلند پایہ ماہر ڈاکٹر ہیں۔معلوم نہیں میرے لئے وقت نکال سکیں گے یا نہیں بجٹس فرینکفریہ نے کہامیں انہیں خوب جانتا ہوں پہ ضرور وقت نکال لیں گے۔تم مجھے اپنی فرصت کے دن تبادو میں انتظام کر دوں گا۔چنانچہ انہوں نے از راہ تواری ٹیلیفون پر بات کرکے انتظام کر دیا۔اور مجھ سے کہا اگر جو لن کہتے ہیں چونکہ تم پہلی بارمعائنہ کے لئے آ رہے ہو اسلئے تین دن بھرنے کیلئے وقت نکال لیا۔اس سیل کی ملاقات میں جس فرینکفرٹ کے ساتھ میرا دوستانہ ہو گیا۔بعد می جب بھی مجھے واشنگٹن جانے کا اتفاق ہوتا ان سے ضرور ملنے کی کوشش کرنا کبھی عدالت میں ملاقات ہوتی کبھی ان کے مکان پہ۔وہ نہایت قابل اور ذہین تھے۔ہارورڈ اسکول کی پر نیدری سے سیدھے سپریم کورٹ کے جج ہوئے تھے۔جب نخود انہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی تو سٹریٹس وینڈل ہومز نے انہیں اپنا کلارک مقرر کیا تھا۔یہ انتخاب ایک قانون کے گریجویٹ کیلئے بہت بڑا اعزانہ شمار کیا جاتاہے۔جی ہومر لمبی مدت تک سپریم کورٹ کے بج رہے اور عدالت کی روایت پرگرا اثر چھوڑ کر نوے سال سے زائد میں بھی کے عہدے کے دوران میں فوت ہوئے جب فرینکفران کے بڑے دار تھے اور انہیں انگر و تصور کرتے تھے۔ہر بات پر اکی سند پیش کرتے اور بات کرتے کرتے لیک کر کوئی کتاب نکی اٹھا لیتے جس سے موزوں عبارت پڑھ کر سناتے۔ایک دفعہ ان سے میری ملاقات ان کے مکان پر ہوئی۔میں ایک کریمی پ بیٹھنے کوتھا کہ انہوں نے میرے دونوں بازو پکڑ لئے نہیں نہیں میںچاہتا ہوں تم اس کو سی پر بیٹھو کہتے ہوئے مجھے ایک اور کرسی پر دھکیل دیا۔میرے دل میں خیال گذر اس کرسی کے ساتھ جسٹس ہیز کا ضرور کچھ تعلق ہوگا۔جب ہی سے