تحدیث نعمت — Page 451
اللهم رخصت طلب کی اور کھڑا ہوا تو کہا اب اس کرسی کی پشت پر جو تیری لگی ہوئی ہے اسکی عبارت پڑھو تو تم جان لو گے کہ یں کیوں چاہتاتھا کہ تم اس کرسی پر بیٹھو۔اس پیری پہ لکھاتھا، یہ وہ کرسی ہے جس پر جسٹس ہومز اپنے مکان واقعہ بیورلے ہلز کے مطالعہ کے کمرے میں بیٹھا کرتے تھے۔ان کی ہدات کے مطابق یہ کیسی جیسی فرینکفرٹ کو پیش کی گئی ہے۔پاکستان کے قیام کے بعد جب ان سے میری ملاقات ہوئی تو کہ ظفراللہ میں جوڈیشیل کام نہیں چھوڑنا چاہئے تھا اب بھی بقدر لی جو کے علاتی فرائض کی طرف لوٹ جادہ ہر بار طاقات ہونے پر یہی مشورہ دہراتے۔جب شام میں میرا تقر بین لاقومی عدالت میں ہو گیا توعن الملاقات فرمایا اب تم راہ راست پر واپس آگئے ہو ! انٹر امریکن بار ایسوسی ایشن سے خطاب میرے واشنگٹن کے قیام کے دوران میں وہاں انٹر امریکن بار ایسی اشین کا اجلاس ہورہا تھا۔صاحب صدر نے مجھے اعلاس کو خطاب کرنے کی دعوت دی۔وقت ہندو منٹ اور موضوع ایک نہیں دو۔اول INDIA'S WAR EFFORT اور دوسرا INDIA'S LEGAL AND JUDICIAL SYSTEM دوسرا موضوع نخود ایک مرکب موضوع تھا جس کے دو پہلو تھے۔میں نے پانچ منٹ پہلے موضوع پر خرچ کئے اور پانچ پانچ منٹ دوس سے موضوع کے ایک ایک پہلو پہ۔جب میں نے اپنا خطاب ختم کیا تو صاحب صدر نے جہاں اور بہت تعریفی کلمات فرمائے وہاں یہ بھی فرمایا WE HAVE JUST WITNESSED A MIRACLE OF CONDENSATION را ابھی ابھی ہم نے دریا کو کوزے میں بند کرنے کا معجزہ دیکھا ہے ) سر گر جاشنکر با جپائی کے خدشات سر جاشنگه با سپائی نے میرے اعزاز میں ڈنر دیا جس میں بہت سی معزز شخصیتوں کے ساتھ تعارف اور ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ایک دن سرگرہ جاشنکر یا جپائی نے مجھ سے کہا جنگ کے دباؤ کے ماتحت حالات جلد مجلد بدل رہے ہیں اور صاف نظر آتا ہے کہ جلدی ہندوستان میں کانگریسی حکومت قائم ہو جائے گی۔میں تم سے مشورہ چاہتا ہوں کہ ان حالات میں کیا مجھے استعفے نہیں دیدینا چاہیے ؟ میں انڈین سول سرویس کارکن ہوں اور اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں مجھےکئی بار کانگریس کے خلاف قدم اٹھانا پڑا ہے یا کانگریس کے خلاف خلوت و مشورہ دینا پڑا ہے۔یہ سب باتیں ریکارڈ پر موجود ہیں اگر کانگریس کے ارباب مل و تبادل لینے رات آئے مجھے بہت مشکل کا سامنا ہو گا۔اس وقت اگر میں استعفیٰ دیدی تو خاموشی سے لیکن عزت اور احترام کے ساتھ علیحدہ ہوسکتا ہوں۔یں نے کہا یہ ایک ایسا ذاتی معاملہ ہے جس کا فیصلہ خود آپ کو ہی کرنا چاہیے۔چونکہ آپ نے مجھ سے مشورہ طلب یا ہے اسلئے میں اپنا مشورہ آپ کی خدمت میں عرض کر دیتا ہوں۔آپ کی اعلیٰ ذہانت اور قابلیت مسلمہ ہے اور کانگریس کے لیڈر آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔آپ کا اپنے فرائض منصبی کو دیانتداری اور خوش اسلوبیا کے ساتھ ادا کرنا ان کی نظر میں ایک قابل قدر خوبی ہونا چاہئے۔جب وہ اقتدار حاصل کر لیں گے تو انہیں آپ جیسے آزمورہ کا رافسروں کی بہت ضرورت ہوگی اور مجھے یقین ہے کہ وہ انکی قدر کریں گے۔آپ کوکسی قسم کا اند