تحدیث نعمت — Page 447
ما کم کم سکسگا میں اس وقت تک محبوس رکھا جاتا تھا جب تک انہیں امریکہ بھیجنے کیلئے مناسب جہاز میر آئے۔اوپر کی منزلی ان دنوں گورنہ اور اس کے عملے کی رہائش اور دفاتر کے کام آتی تھیں۔سرامین اور لیڈی یہ ترمت تواضع سے پیش آتے رہے محل کے کھانے کے کمرے کے باہر ین سمندرہ کے اومیہ ایک تھرو کہ تھا۔صبح کے ناشتے کیلئے میریاں لگائی جاتی تھی۔اگر اتفاق سے کسی مہانی کے ہاتھ سے چھری کانٹا یا چھو وغیرہ گر جاتا تو کئی سوفٹ نیچے بحر اوقیانوس کی لہروںمیں جاکر ٹھہرتا۔سامنے کی چٹانوں پر سونے کی شعائیں آتی روشن اور آنکھوں کو چندھیا دینے والی موتیں کہ تھرو کے میں بیٹھنے والوں کو آنکھوں کی حفاظت کی خاطر یا پیچھے استعمال کرنا ٹتے پہلی شام کھانے کے بعد ریڈیو پا علان وا کرتا اطلاع ثانی ہرقسم کے ہوائی جہازوں کی پروا نہ افریقہ کے شمالی اور مغربی علاقوں کے اوپر بند کی جاتی ہے۔ہمیں اس اطلاع سے بہت پریشانی ہوئی کہ خدا جانے جنگ کے حالات نے کیا کیا کھایا ہے اور معلوم نہیں مارا یہ سفر جاری رہ سکے گا یا نہیں اور اگر جاری ہیں کہ کینیا توہم یہاں سے وطن لوٹ سکیں گے یا یا ہیں لیکن یہ پریشانی جلد رفع ہو گئی۔دوسری صبح اعلان ہوا کہ امریکی افواج شمالی افریقہ میں استہ ناشر وع ہوگئی ہیں۔تیسری شب ہم کھانے سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ مار سے ٹیلیفون ہوا کہ اگر گوری صاحب اپنے مہانوں کو آدھے گھنڈ کے اندر مانہ پر پہچانے کا انتظام کر دیں توانہیں راتوں رات سمندر پار پنچانے کا بندر بہت ہو جائے گا۔ہوائی بہانہ فریٹر یعنی سامان لے جانیوالا جہانہ ہے لکین ہم اسے م فرد کیلئے استعمال کر رہے ہیں ہم فوراً تیار ہوگئے۔چلتے چلتے لیڈی برین نے ان را نوازش مین صوفہ کش کار کی کھڑکی میں سے اندر پھینک دیے اور کہا یہ لیتے جاؤ شاید کام آجائیں۔مانا کا مطار ان دنوں امریکی فوجی تصرف میں تھا۔مار پ سن کر ملا ہوا کہ جہان میں رکن ہوا بازوں کی ایک پار ٹی امریکہ اپ معلوم ارہی ہے۔یہ جانانہ امریکی فوجی ہوائی جہانہ امری سے ایران سے جاتے تھے اور وہاں انہیں روسی فضائیہ کے افسران کے سپرد کر دیتے تھے۔پھر اور مالی میانا نے کیلئے واپس امریکہ جاتے تھے۔علی الصبح بہانہ ہوتی مریکہ کے ملک ان ہی میں تمام مال اتنا جہاں امریکی فوجی کیمپ تیارکیا جارہا تھا۔ناشتے پر برے بافراط میسر تھی ناشتے سے فارغ محور کہ ہم ایک امریکی فوجی ہوائی جہانہ پر سوار ہوئے تو رات والے بہانہ کے مقابلہ میں ہر قسم کے آرام اور آسائش سے آراستہ تھا نشتی فراخ اور آرام دہ تھیں مختلف قسم کے پھل سینڈ دینے اور غیر منشی مشروبات با افراط میں تھے۔سٹوارٹ کوئی نہیں تھا، ہر کوئی آزاد تھا۔جب چاہے اور جو کچھ چاہے کھائے پیٹے۔شام کے قریب ہم جارج ٹاؤن برٹش گائنا کے قریب ایک امریکی فوجی کیمپ میں اترے۔دوسری صبح ناشتے کے بعد روانہ ہو کر سر پر کو میامی رفلوریڈا ، پہنچے ہمارے ساتھ جو امریکن پائلٹ ** ”