تحدیث نعمت — Page 448
F ۴۸ تم سفر کر رہے تھے ان کے ساتھ ہماری خاصی بے تکلفی ہوگئی تھی۔ٹال سے روانہ ہوتے ہی آپس میں بات چیت شروع ہوگئی۔ان میں سے ایک تو ہمارے قریب بیٹھے ہوئے تھے چند منٹوں کی گفتگو کے بعد فورا ایرانی کے میں کہہ اٹھے گی WHYE YOU ARE LIKE " " آپ تو ہم جیسے ہی ہیں ، میں اس پر نہا اور کیا آپ تو رات اندھیرے میں بہت گھرائے ہونگے کہ علوم نہیں کسی قسم کے وحشی جانور ہمارے ساتھ ہوائی جہاند میں بند کر دیئے گئے ہیں خدا خیر کرے۔ان صاحب کا نام مرے دایٹ تھا۔میں سال بعد جب فروری را دار میں میں ڈیور یونیورسٹی کی کسی تقریب میں شمولیت کیلئے وہاں گیا اور انہوں نے میرا نام اخبار مں دیکھا تو شینیو پر مجھ سے بات کی اپنا نام کرنل وائٹ بنایا۔مجھے فورا یہ بات ذہن میں نہ آئی کہ امریکی ہوائی فوج میں افسروں کے گریڈ میری فوجی کہ بیڈ کے مطابق ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا سرظفراللہ تمہیں تو یاد نہیں ہو گا لیکن مجھے یاد ہے کہ بیل کے قریب ہوئے ہم نے ایک ہوائی سفر اکٹھے طے کیا تھا۔میں نے پو چھا تو کیا آپ مرے وایٹ نہیں ؟ کہا دی ہوں۔اسی دن سہ پہر کو مجھے ملنے آئےاور اپنی بیوی کو ساتھ لائے۔میں نے اپنے اکٹھے سفر کی بہت کی باتیں انہیں یاد دلائیں۔PACIFIC RELations, Association میامی پہنچنے پر ماں پر تعین برطانوی نائب قونصل میں ماہ پہلے اور بتایا کہ انہوں نے ہمارے قیام کیلئے ہوٹل یں کرے لے رکھے ہیں اور مارے نیویارک جنے کیلئے ہوائی بہانے بھی اور ریل میں بھی گرے رکھی ہے۔ہم نے طے کیا ہ ات میامی شهر کردوسری صبح دلیل سے نیویارک روانہ ہو جایں گے۔میامی سے نیو یارک تک تقریب ۲۴ گھنٹے کا سفرتا بولفضل اللہ آرام سے طے ہوا۔نیو یارک پہنچنے پر کی طرف سے ان کے سیکر یٹری میں سٹیشن پھیل گئے اور نہیں والدارت ہوٹل لے گئے جہاں ہمارے ٹھہرنے کا انتظام کیا گیا تھا دلی سے نیو یارک پہنچنے میں ہمارے تین ہفتے صرف ہوئے۔نیو یارک میں ہم ہفتہ بھر ٹھہرے۔ان دنوں ملک بشیر احمد صاحب نیو یارک میں منتقل رہائش پذیر تھے۔ان کی وجہ سے میں بہتآرام لا مجزا اللہ کانفرنس کا وقت آنے پر ہم نیویارک سے بذریعہ ہیں راتوں رات سفر کر کے علی الصبح مونٹریال پہنچے اور وہ گاڑی بدل کر یوں نہ میلان گئے۔سردیوں کا موسم تھا یہ مقام لارنشین کے پہاڑی علاقے میں ایک تفریحی مقام ہے۔ان دنوں وہاں ہر طرف برف تھی سٹیشن سے لاح تک ہم SLEDGES میں گئے۔کانفرنس کے اعراض کے مدنظر یہ مقام نہایت موزوں تھا۔مرکزی عمارت میں کھانے کا انتظام تھا۔اور کانفرنس اور کمیٹیوں کے اجلاس کیلئے علیحدہ کرے تھے۔ارد گرد کے جنگلوں میں رہائش کے کمرے تھے جو نہایت آرام دہ تھے میں اٹھے پر تینگے کے برآمدے کے آگے برف کی چکیں نظر آتی تھیں جو سورج نکلنے پر آہستہ آہستہ پچھلنا شروع ہوتی تھیں اور یہ پرنک پگھل جاتی تھیں۔صبح پھر دی کیفیت ہوتی تھی۔ارد گرد برف سے لدے ہوئے پہاڑ تھے۔دوپہر کو اگر موسم صاف ہوتا تو ہے SKIN کے شائق انا شوق پورا کر سکے تھے۔کہیں آنے جانے کا و موقوم نہیں