تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 446 of 736

تحدیث نعمت — Page 446

شمولیت پر عاشہ ہوں۔انہوں نے فرمایا جلد تیاری کر لو کیونکہ سفر ہے اور بر مولے پر تاخیرکا استمال ہے محترم یکم شاہندوانہ صاحبہ نے بھی کا نفرنس میں شریک ہو نا منظور فرما لیا۔کنیڈا کا سفر وقت آنے پر ہم کراچی سے ہوائی کشتی پر سوار ہوئے اور قاہرہ پہنچ کر ہمارے سفر کا وہ مرحلہ ختم ہوا۔قاہرہ پہنے پر کسی کے سیکر بڑی مجھے لے اور کہا مٹر کسی چاہتے ہیں آپ ان کے پاس ٹھہریں وہ آپ سیکریٹری ے کچھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں میں نےکہا مجھے ابھی بتایا گیاہے کہ ہماری رہائش کا نظام شیر یوں ہی ہے۔مسرکیسی کی خدمت میں عرض کریں کہ یں ٹھہروں گا تو ہوٹل میں لیکن جب وہ ارشاد فرمائیں میں انکی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گا۔انہوں نے کہا اس صورت میں انکی خواہش ہے ہ آپ کل دو پر کا کانا ان کے ساتھ کھائیں۔میں نے بخوشی نکی دعوت قبول کرلی۔مسٹر کیسی ان ایام میں مشرق وسطی میں برطانوی وزیہ یہ یا ست تھے۔اب لارڈ کیسی ہیں اور آسٹریلیا کے اور گورنه تنزل رہ چکے ہیں۔دوسے دن دوپہر کے کھانے پر مٹر کیسی نے ذکر چھیڑا کہ ہندوستان میں رائے عامہ کو جنگی سرگرمیوں میں دلچسپی لینے اور ان کے حق میں متاثر کرنے کیلئے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا جاتا۔اس سلسلے میں میں نے ان سے اس یاداشت کا ذکر کیا جو میں نے جنگ کنگ سے وائسرائے کی خدمت میں ارسال کی تھی۔مسٹر کیسی نے کہا تمہاری کتونی بہت مناسب معلوم ہوتی ہے ایسا اقدام ضرور ہونا چاہیے اور میں سمجھتا ہوں یہ بہت مفید ثابت ہو گا۔کہنے لگے امریکہ سے لوٹتے ہوئے تم کیوں انگلستانمیں براہ راست زیرہ ہند اور وزیر اعظم سے بات ہی نہیں کرتے میں نے کہا میرا کوئی اپ منصب نہیں کہ میں جنگ کے دوران میں از خود ان سے ملوں اور مطالبہ کرو کہ میری تجویز پر توجہ دی جائے۔پوچھا اگر تمہیں مشورے کیلئے بلایا جائے تو تمہیں جانے میں کوئی عذر ہوگا ؟ میں نے کہا میں خوشی جاؤں گا۔کہا بہت خوب ! علی مسٹر ایمری کو اس بارے میں لکھوں گا۔ہم قاہرہ میں تین دن ٹھہرے۔قاہرہ سے روانہ ہو کر ادی حلقہ ٹھہرتے ہوئے فریلوم پہنچے اور ایک رات وہای قیام کیا۔دور سے دن خرطوم سے روانہ ہوکر ٹوبا ٹھہرتے ہوئے سٹیلے ویل میں رات بسبہ کی تیرے دن لیوپولڈ ویل ٹھہرے چوتھے دن لیگوس پہنچے۔سر کا دور امر علم میاں ختم ہوا۔تین دن لیگوس میں گور نہ منزل کے ہاں مہمان رہے۔گورنہ تنزل سره منری بورویان بہت تواضع سے پیش آئے اور ہمیں ان کے ہاں ہر طرح سے آرام ملا۔قاہرہ سے لیگوس تک کا سفر بھی ہوائی کشتی سے ہوا۔چوتھے رونہ لیگوس سے ہوائی بہانہ میں روانہ ہوکر مکہ پہنچے اور یہاں گورنہ ین بہن کے ہاں قیام ہوا۔ان کی رہائش کو سپین بورگ کمیل میں تھی جو نانا کے آنا د ہونے کے بعد اب صدر ریاست کی رہائش گاہ ہے۔یہ حل پرانے وقتوں میں یہاں کے ڈینیش حکمرانوں نے تعمیر کرایا تھا۔اس کی جائے وقوع بہت نرالی ہے۔بحر اوقیانوس سے اٹھتی ہوئی ایک پہاڑی کی چوٹی پر یہ محل بنا ہوا ہے۔خشکی کی طرف اس قطعہ زمین کی سطح تہوار ہے سمندر کی جانب کئی سوفٹ محل کی عمارت تغیر کی ہے۔نچلی منزل میں نہ خانے میں مین کے اندر پرانے زینے