تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 445 of 736

تحدیث نعمت — Page 445

۴۴۵ ط پارٹیوں اور عوام پر بھی یہ واضح ہو جائے کہ حکومت اس بات پر آمادہ ہے کہ سلطنت کی ذمہ داری برطانوی ہاتھو سے منتقل ہو کر ہندوستانی تا تختوں میں چلی جائے۔اگر آئین کی تبدیلی می تاخیر موری ہے تو اسکی وجہ ایک تو جنگ ہے جس کے دوران ایسے اہم اور پیچیدہ مسئلے کی طرف پوری توجہ نہیں دی جاسکتی اور دور سے باہمی فرق داراً اختلافات ہیں جن کا ابھی تک کوئی حل نظر نہیں آرہا۔لیکن یہ ثابت کرنے کے لئے کہ حکومت ان دور مشکلوں کو آزادی میں المنزا کیلئے مہانہ نہیں بنارسی اور حکومت کی نیک نیتی پر شک کی کوئی گنجائش نہیں کوئی ایسا اقدام ہونا چاہیئے جس کے نتھے میں ہندوستان کی حکومت کے متعلق آخری فیصلوں کا اختیار مند دوستانی افراد کے سپرد کر دیا جائے خواه لفظاً ذمہ داری وائسرائے وزیر مہند اور بر طانوی پارلیمنٹ کی رہے۔اپ کرنے سے اتنا تو واضح ہو جاے گا کہ جنگ کے ختم ہو جانے کے بعد بر طانیہ موجودہ حالات کو طول نہیں دیگا۔اور جلد سے عبید ہندوستان کو آئینی لحاظ سے بھی آند او کر دے گا۔PACIFIC RELATIONS CONFERENCE مجھے تنگ کنگ سے واپس آئے ابھی تھوڑا عرصہ ہی ہوا تھا اور میں عدالت کے ایک ہی اجلاس میں شامل ہوا تھا کہ سراوان میں بطور نمائندہ ہندوستان شرکت کیرو نے میرے ساتھ ذکر کیا کہ PACIFIC RELATION NFERENCEہ کا اجلاس دسمبر کے مہینے میں کنیڈا کے ایک پہاڑی مقام مو تر بیان میں ہونے والا ہے تو کیوں کے صوبے میں واقعہ ہے اور ہندوستان کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔کانفرنس غیرسمہ کاری ہے لیکن آں میں کینڈائریاست ہائے متحدہ بر طانیہ کے علاوہ بحر الکاہل کے گرد کے آزاد ملک کے نمائندے شامل ہوں گے : وائسرائے کا خیال ہے کہ اس کا نفرنس میں ہندوستانی نمائندوں کی شمولیت ہندوستان کے درجے اور وقار میں اضاے کا باعث ہوگی۔جنگ کے دوران میں یہاں سے کوئی بڑادند تو بیا جانا مشکل ہے۔سر کے حالات بھی برآرا ہیں لیکن والے ایسے سمجھتے ہیں اگر تم ایک چھوٹے سے دند کی قیادت کرنے پر رضامند ہو جاؤ تو جوسائل وہاں زیر بحث آنیوالے ہیں ن کے متعلق غیر سرکاری طور پراظہا ر کرسکے ہو تمہیں اسمیں پوری آزادی ہوگی۔محترم میگم شاہنواز صاحب کو بھی دعوت دی جائے گی۔اگر انہوں نے دعوت منظور کرلی توده و قد کی دوسری رکن ہونگی۔اگر کسی اور کو دن میں شامل کر ناممکن ہوا تومیں اطلاع کر دی تھا۔جو معلومات کا نفرنس کے متعلق وصول ہوں گی وہ میں نہیں بھیجتا رہوں گا۔اس سے نے چیف جسٹس سے دریافت کیا تھا کہ عدالت میں تمہیں کسقدر مصروفیت ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ اجلاس کے بعد ایک خاصاعرصہ فرصت کا ہو گا انہیں تمہارے کا نفرنس میں شریک ہونے کم تعلق کوئی تامل نہیں۔میں نے کہا میں چند دنوں کے اندر بتا دوں گا کہ میں جا سکتا ہوں یا نہیں۔چیف جسٹس سے بات ہوئی انہوں نے مشورہ دیا کہ تمہیں ضرور جانا چاہئیے۔میں نے چند احباب کے ساتھ مشورہ کرنے اور کچھ غور کرنے کے بعد سر اولف سے کہدی کہیں کانفرنس میں