تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 444 of 736

تحدیث نعمت — Page 444

م کم کم نے مجھے لکھاتھا کہ اسلئے میرے خدا کو بہت دیسی سے پڑھتے ہیں لیکن جب میں نے وہی باتیں اختصار ان کی خدمت میں زبانی گذارش کیں تو انہیں حیرت ہوئی اور انہوں نے میرے تاثرات کے متعلق تعجب کا اظہار کیا۔میں نے انکی خدمت میں تین باتیں وضاحت سے گذارش کیں :۔اول :- جاپان کی شکست کے بعد معین اشتراکیوں کے زیر اقتدارہ چلا جائے گا۔وائسرائے :- تم ایسا کیوں کہتے ہو ؟ ظفر اللہ خاں :۔میں یہ اسلئے کہتا ہوں کہ اسوقت جاپانیوں کی جو مدافعت مبین کی طرف سے ہورہی ہے اس کا زیادہ حصہ اشتراکیوں کی سرگرمیوں کا نتیج ہے۔گومین ڈانگ کی طرف سے دکھاوا ہی دکھاوا ہے۔اشتراکیوں کا نظام بہت مضبوط ہے۔انکی تربیت بہت زبردست ہے۔گومن ڈانگ میں ہرطرف رشوت اور چودہ بازاری کا زور ہے اور رعایا پر خصوصاً کاشتکاروں پر نا جان با اور بے جانی عمل می لائی جارہی ہے۔جاپان کی شکست کے بعد یہ حالت قائم نہیں رہ سکتی۔اشترا کی ضرور تم ملک پر چھا جائیں گے گومن ڈانگ پارٹی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔یہ کہا جاتاہےکہ چینی اشتراکی روی اشتراکیوں کیا اور اشتراکی نہیں گلابی رنگ کے اشترکی میں یہ محض خوش فہمی ہے۔تمام قائدین ماسکو کے تربیت یافتہ ہیں اور سوفیصدی اشتراکی ہیں۔سوئم:۔یہ توقع کہ چینی کاشتکار انفرادیت کا دلدادہ ہے اور وہ ہرگز اشترا کی دباؤ قبول نہیں کریگا ایک خیال نام ہے۔مہینا کاشت کار کو انفرادیت سے سروکار ہے نہ اشتراکیت سے جو پارٹی اس پرمسلط ہو جاے گی وہ اس کا رمانبردار ہوجائے گا ور اگر اسے انسی دباؤ او د ب ب س س س م ا ا ا ا ا سکی تو اسے آزاد کرنیوالوں کو تہ دل سے خوش آمدید کہے گا۔اران نے میری باتیس سی میں پرمجھے یقین ہے کہ نہوں نے انہیں کوئی وقعت نہ دی لیکن گدہ ایک تھ متفق بھی ہوتے تو وہ کر بھی کیا کتے تھے یہ سب امور ان کے حلقہ اختیار اور رسوخ سے باہر تھے۔چنگ کنگ سے ہندوستان کی آزادی میں نے گینگ کنگ سے ایک یا داشت وائسرائے کی خدمت میں کے متعلق وائسرائے کو میری یاد داشت | ہندوستان کے آئین کے سلسلےمیں ارسال کی تھی۔میں نے لکھا تھا کہ گو جنگ کے دوران میں آئین میں تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی لیکن رائے آئین کی حدود کے اندر رہتے ہوئے جو عملی اقدام بھی ہندوستان کو آزادی کے لئے تیارہ کرنے کے سلسلے میں کیا جا سکتا ہے اسکی طرف تو یہ دینی چاہیے۔مناسب موقعہ پر ایسا اقدام بہت نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔اس ضمن میں میں نے لکھا تھا کہ جو اشخاص امور مملکت کا کسی حد تک تجربہ رکھتے ہیں اور حکومت کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہیں حکومت کو چاہیے کہ ان پر اعتماد ملی ثبوت دے۔اور امور سلطنت کے متعلق حقیقی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ڈالے تاکہ سیاسی