تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 28 of 736

تحدیث نعمت — Page 28

i سٹامس آرنلڈ سے پہلی ملاقات شیخ عبد الرزاق صاحب ہمیں ساتھ لئے فراخ خوبصورت سیڑھیاں پڑھ کر ایک وسیع کمرے میں داخل ہوئے اور ہم سب وہاں بیٹھ گئے۔دو تین منٹ کے اندر ایک دراز قامت با دقت به خاتون اپنا چشمه دائیں ہاتھ میں تھامے کمرے میں داخل ہوئیں اورشیخ المطلق صاحب کی طرف متوجہ ہوئیں شیخ صاحب نے ان کے سلام کا جواب دیتے ہوئے انہیں مس بیک کہہ کر خطاب کیا۔جس سے مجھے حیرت ہوئی کہ شیخ صاحب نے انہیں فوراً کیسے شناخت کر لیا۔اس وقت مجھے تو سب انگریزی چہرے ایک جیسے ہی دکھائی دیتے تھے۔شیخ صاحب نے ہمارا تعارف کرایا اور بتایا کہ تم مینواسی صبح ہندوستان سے لندن پہنچے ہیں اور سٹرا مس آرنلڈ سے ملنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں۔اتنے میں ٹلس نے ہمیں بلالیا اوریم ان کی خدمت میں خار ہو گئے۔ہم تینوں اپنے اپنے کورس کیلئے کیمرج جانا چاہتے تھے مولوی محمدعلی فضائی اور میری نسبت تو سرما میں نے فرمایا کہ داخلے میں کوئی وقت نہیں ہونی چاہیے۔کیونکہ ہم دونوں نے بی اے اول درجے میں پاس کیا تھا شیخ محمد سعید صا د کے متعلق انہوں نے فرمایا کہ یقین تو نہیں لیکن امید کی جاسکتی ہے کہ دا خلیل جائے گا۔چنانچہ انہیں بھی داخلہ مل گیا۔میں نے عرض کیا کہمیں کیمبرج میں تاریخ اور قانون میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد انڈین سول سروس کے امتحان میں بیٹھنا چاہتا ہوں لیکن میری دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہے۔اگرمیں سول سروس کے مقابلے کے امتمان میں فضل اللہ کامیاب ہو جاؤں تو ایسا نہ ہو کہ طبی معائنے میں رد کر دیا جاؤں اور میری محنت بر کار جائے سٹامس نے فرمایا ہم تمہیں ایک خط دیدیتے ہیں جسے تم انڈیا آفس کے جاؤ، وہ میڈیکل بورڈ کا انتظا کرینگے اس بورڈ کی رائے کسی بعد کے بورڈ پر قابل پابندی تو نہیں ہوگی لیکن اس سے تمہاری بنیائی کی حالت معلوم ہو جائے گی اور آئیندہ کے متعلق اندازہ ہوسکے گا۔چنانچہ سرٹامس آرنلڈ نے مجھے خط دیدیا اور ان کے اسٹنٹ نے مجھے انڈیا آفس پہنچنے کا رستہ بتا دیا۔اور میں فوراً انڈیا انس روانہ ہو گیا۔انڈیا آفس لنڈن میں یہ میرا پہلا دن تھا اور لندن پہنچنے کے چند گھنٹوں کے بعد مجھے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی عطا کردہ فراست پر بھروسہ کرتے ہوئے زبانی حاصل کردہ ہدایات کے مطابق ۲۱ کر امویل روڈ سے انڈیا آفس پہنچنا تھا۔ساؤتھ کنسنگٹن اسٹیشن قریب ہی تھا۔وہیں سے اتر کر یم کرد مویل رو گئے تھے۔اسٹیشن پر پہنچ کر میں نے ویسٹ منسٹر ٹی ایکٹ لیا اور ڈسٹرکٹ ریلوے لائن کی مشرق کو بھاتی ہوئی گاڑی پر سوارہ ہو گیا۔بجلی سے چلنے والی زیمہ زمین گاڑیاں میرے لئے اچنبھا تھیں۔میں نے ہیمر سمتھ سے ساؤتھ کنسنگٹن تک آتے ہوئے پہلی بار ایسا عجوبہ دیکھا تھا۔لیکن اس وقت میرے ساتھ تین ہمرا ہی تھے۔جن میں سے شیخ عبد الرزاق صاحب ان سب باتوں کا خوب تجر بہ رکھتے تھے اور اب میں اکیلا تھا۔اور مجھے