تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 441 of 736

تحدیث نعمت — Page 441

اوقات میں انان کو اپنی باط معلوم ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عنایات کے شکر اور ان کی قدریہ سے دل بریہ مجھ جاتا ہے۔جنگ کنگ میں بفضل اللہ رہائش کا انتظام تو خاطر خواہ ہو گیا تھا۔میں گرمی سے بہت گھبراتا تھا لیکن منگلے کا محل وقوع ایپ تھا کہ جب تک ہم بنگلے میں رہتے تھے گرمی کی شدت سے محفوظ رہتے تھے۔کھانے کے متعلق بھی کوئی ایسی وقت نہیں تھی۔شکر کا مجھے پر ہی تھا اور یوں بھی میں سادہ غذا کا عادی ہوں۔اس لحاظ سے سب ضروریات پوری ہو جاتی تھیں۔لیکن ذہنی محرومی سب سے بڑی مشکل تھی۔ہم باہر کی دنیا سے الگ تھلگ پڑے ہوئے تھے۔چینی اخبارہ ہم پڑھو نہیں سکتے تھے۔پڑھ سکتے بھی توان میں باہر کی دنیا کی کوئی منبرت وہی شائع ہوتی تھی۔باہر کی دنیا کے ساتھ رشتہ ڈاک کے ذریعے ہی قائم تھا۔ڈاک ہفتے میں ایک بار اسی سہانہ سے آتی تھی س سے نکلنے سے یا ان کا سفر کیا۔کتے سے جن جن کے نرمی کی گھٹے ہوے تھے لیکن جہاز کے پنک رنگ پہنچے جانے کے بعد ہماری ڈاک کو ہم تک پہنچنے میں ۲۴ گھنٹے لگتے تھے۔ہمارے بنگلے سے دریا کا وہ ٹاپو نظر آتا تھا جس پر ائی جاناتا کرتاتھا اور ہم بیان کو اترتا دیکھ کر اندازہ کر لیتے تھے کہ کل اسوقت تک ہمیں ڈاک مل جانی چاہئیے آسٹریلیا کا سفارتخانہ بھی جنوبی کنارے کے سلسلہ کوہ میں واقعہ تھا اس سفارت خانے کے تھرڈ سکریٹری کے ساتھ تعارف ہونا ہمارے لئے بڑی راحت کا موجب ہوا۔فجزاہ اللہ۔یہ صاحب مٹر کتنے والہ سفتے میں ایک دوبارہ سلسلہ کوہ کے کنارے کنارے ایک تھیلہ کتابوں ، اخباروں رسالوں کا اٹھائے ہوئے ہمارے ہاں تشریف لاتے تھے۔وہ سب ہمارے حوالے کرتے تھے اور جو تم پڑھ چکے ہوتے تھے ہم انہیں واپس کر دیتے تھے۔کوئی گھنٹہ بھر ٹھہرتے تھے۔ہمارے پاس انکی تواضع کیلئے لیٹن کی چائے ہی تھی۔جو ان کی خدمت میں پیش کردی جاتی تھی۔دودھ تو میری نہیں تھا اور شکر کا استعمال شاید وہ عادت نہیں کرتے تھے۔لیکن لینی چائے کے چھ سات پہائے اس شوق سے نوش فرماتے تھے جیسے یہ نعمت انہیں پہلے کبھی نصیب نہیں ہوئی۔جب جنگ رنگ میں ہماری یہ ہائش کا عرصہ ختم ہونے کو آیا تو ہمارے پاس چائے کے تین چار ڈ ہے ابھی باقی تھے وہ ہم نے مسٹر کیتھے والد کی نذر کر دیے۔وہ اتنے خوش ہوئے گویا ایک خزانہ مل گیا۔میری ملاقات ان سے بعد میں بھی ہوتی رہی ہے اب تک مٹر دالر ماسکو اور واشنگٹن میں آسٹریلیا کے سفر رہ چکے ہیں۔آسٹریلیا کی وزارت خارجہ کے سیکرٹیری می رہ چکے ہیں۔بیر دل میں ان کے احسانوں کی یاد اتک تازہ ہے۔انقلاب چین کے تعجب خیز اثرات | میرے لئے جنگ کنگ کے عرصہ قیام میں سب زیادہ جو چیز موجب اذیت تھی وہ وہاں کا تعفن اور بار بو تھی۔جن کی تفصیل بیان کرنا بھی موجب اذیت ہو گا۔بائیس سال لعبد مجھے کینٹین میں ، ۲ گھنٹے گزارنے کا اتفاق ہوا اور میں نے اسے نہایت مان سفرا شہر پا یا یہاں تک کہ وہاں **