تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 435 of 736

تحدیث نعمت — Page 435

" ۳۵م بیعی پر روانہ ہوں یا ان پروگرام یہ تھا کہ چھ سال کی متواتر محنت شاقہ کے بعدمیں گریون کے سپنے آرام و سکون میں گرگ ار وادی کشمیرمیں گزاروں گا۔وائس ایے کی کون کی ریت کے زمانے میں میں نے ایک دن بھی تھی نہیں لی تھی جان کہ پہلی میعاد میں بھی مجھے احق تھا اور دوسری میعاد میں بھی۔پھر صحت کے لحاظ سے پکینگ کنگ یم کنگ کی آب و ہوا میرے لئے تکلیف دہ بھی تھی اور مضر بھی، داٹرائے کا مامانہ طور پر کوئی اختیار نہیں تھا کہ مجھے چین جانے پر مجبور کرسکتے اگرمیں جانا چاہاتو میرا ان کو دنیا کا فی ہوتا ہت شکریہ لیکن افسوس ہے کہ تعمیل ارشاد سے قاصر ہوں۔لیکن بار بار مجھے خیال آنا وائسرائے نے اس اعتماد کی بنا پر مجھے لکھا ہے کہ میں خطرے اور بے آرامی سے نہیں گھر آتا اور اگر ملک کی خدمت کا کوئی موقعہ پیش آجائے تو مجھے دیر نہ ہوگا۔میرا انکار ان کیلئے پریشانی کا موجب ہوگا۔اسلئے میں نے دوستے دن انہیں لکھ دیا کہ مجھے تعمیل ارشاد میں عذر نجونجہ یہ تھی کہ میں جتنی جلدی ہوسکے روانہ ہو جاؤں اور سفارت خانے کے قیام کے بعد چھ سینے تک بطور سفیر کام کر کے اکتوبر میں واپس آ جاؤں۔ہندوستان سے جنگ کنگ جانے کیلئے ان دنوں ہوائی جہانہ کلکتہ سے روانہ ہو کہ برما میں بھرتے ہوئے جنگ کنگ جاتا تھا۔لیکن میں انہیں ایام میں جاپان کا تسلط شمالی برما پر کھلی ہو گی اور یہ رستہ نہ ہو گی جس کے نتیجےمیں میری روانگی ملتوی ہو گئی اور مجھے دور سے سینگی در گرگ میں گزارہ نے کا موقعہ مل گیا۔ستینگ کنگ کا سفر آخہ کلکتے سے دنجان رشمالی آسام ) اور کہ در گینگ کے رستے پینگ کنگ تک ہوائی نہیں ی ہفتہ وار پروانہ کا انتظام ہوگیا اورہم شروع ہوں میں کتے پہنچ گئے۔میں سرعبدالحلیم غزنوی کے دوان نے پر قیام ہوا اور ہم نے جنگ جنگ کے سفر کی تیاری میاں مکمل کرلی۔میرے ساتھ منزل نذیر احمد صاحب مرحوم جو بالوت ابھی میجر تھے میرے ملٹری سکریٹری کی حیثیت میں تھے۔بالو تاج الدین صاحب سپر نٹنڈنٹ اور ایک صاحب تجو رنگوں سے بھاگ کر آئے تھے نطور یا شفر اسسٹنٹ اور ٹینو گرافر تھے۔مجھے لینے کے لئے انسولین کی ضرورت تھی جود لی سے مہیانہ ہوسکی تھی۔لکھنے میں اسکی تلاش میں نے عزیز انور احمد کے سپرد کی۔انہیں کچھ مشکل میں آئی جس سے وہ بہت پریشان ہوئے لیکن آخر بہت دوڑ دھوپ کے بعد انہوں نے مطلوبہ مقدار اسی قسم کی خشکی مجھے ضرورت تھی میساکر ہیں۔فجزاہ اللہ ہم نے احتیاطاً ایک درجن ڈبے بلیٹن کی چائے کے بھی خرید لئے ہو ہمارے بہت کام آئے۔دنخان سے کنگ جاتے ہوئے ہمیں ایک بلند سلسلہ کوہ کے اوپر سے گزرنا تھا جس کی بعض چوٹیاں ۸ ہزار فٹ سے لیکر ۲۱ ہزار فٹ تک بلند تھیں۔ہوائی جہانہ ۵۰۰۰۳ تھا نشست کیلئے دونوں طرف الومینیم کے پنجے تھے درمیانی حصہ میں سامان بھرا ہوا تھا۔کھلتے سے صبح کے وقت روانہ ہو کہ ہم مجھے