تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 432 of 736

تحدیث نعمت — Page 432

۴۳۲ انا دنوں میں نے ایک تجویز وائسرائے کی خدمت میں پیش کر دیکھی تھی کہ کونسل کے اراکین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور کونسل میں کثرت ہندوستانیوں کی ہو۔والرائے نے یہ تو ندانی تائید کے ساتھ وزیر سند کی خدمت میں بھیج دی تھی۔اسکی منظوری آ گئی۔وائسرائےنے مجھ سے مشورہ کیا کہ تمہارے جانے پر وزیر قانون اور وزیہ سپلائی کن اصحاب کو مقررہ کیا جائے۔وزارت قانون کیلئے میں نے سرسید سلطان احمد صاحب کا نام پیش کیا اور وزارت سپلائی کیلئے سرعمومی مودی کا۔انبیائے نے دونوں کے متعلق پسندیدگی کا اظہار کیا اور کہ ان دونوں سے دریافت کرلو کہ وہ نئی کونسل میں شامل ہونے کو تیار ہوں گے۔سر سومی مودی اور سر سلطان احمد کا سر سومی مودی اسی دوران میں شملے آئے تھے۔مجھ سے ملے اور تقریر بطور اراکین کونسل باتوں باتوں میں کہا تم سپلائی کے روز یہ سوال کیوں نہیں کرتے اور دیا کیوں نہیں کرتے۔میں نے کہا میں آپ کی رائے کا احترام کرتا ہوں اور اس پر توجہ کردوں گا امین بعض مشکلات بھی ہیں۔اس پر کہا اگر میں وہ یہ سپلائی ہوتا تو کوئی نہ کوئی رستہ نکال لیا۔میں نے کہا ہے خوب آپ رستہ سوپ کیجئے ممکن ہے موقعہ نکل آئے۔اس کے بعد جب وائسرائے سے میری بات ہوتی اور انہوں نے سرمہ میں مودی کے متعلق اپنی رضامندی دیدی تو سرمومی کے دوبارہ ملا تشریف لانے پرمیں نے ان سے پوچھا ہ آپ نے کوئی رستہ سوچ لیا کہنے لگے وائے کیا کیا نانا یا کریم میری بونی پل کرنے کا وعدہ کرو قومی تجھے سوچ کر تمہیں بتادوں گا۔میں نے کہامیں وعدہ کرتا ہوں بشرطیکہ ایک بات آپ میری مان لیں پوچھا دہ کیا ؟ میں نے کہا وہ یہ کہ سپلائی کی وزارت کا چارج آپ خود ے ہیں۔کہنے لگے میں یہ مصیبت کیوں سیڑیوں ؟ یں نے کہا اسکے کہ پچھلی ملاقات پر آپ نے کہا تھا کہ اگر میری جگہ ہوتے تو یوں کرتے۔اب میری جگہ لینے کا موقعہ ہے آیئے اور جو تجاو نی آپ کے ذہن میں ہیں انہیں مل میں لائے۔کہنے لگے مذاق کرتے ہو میں نے کہامیں ہرگزندان نہیں کر رہا۔میں نے آپ کا نام وائسرائے کی خدمت میں پیش کیا ہے اور وہ رضامند ہیں۔اس پر میں نے انہیں کونسل کی نئی تشکیل کا منصوبہ بتایا۔انہوں نے کہا میرے لئے کونسل میں آنا بہت مشکل ہے۔میں اپنی موجودہ زمہ داریوں کو چھوڑ نہیں سکتا میں نے کہا لیکن میںنے تو آپ کے پچھلی گفتگو کی بناء پر اشارے کو آمادہ کر رہا ہے۔اب آپ پیچھے جائیں تومیری کسی ہوگی۔کہا بڑی شکل میں ڈال دیاتم نے میں نے کہا کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے۔آپ لوگ تنقید کرتے رہتے ہیں کہ یوں ہونا چاہئے اور یوں ہونا چاہئے اور اب جب موقعہ آیا ہے تو آپ کو مشکل نظر آتی ہے آئیے اور اس مرحلے پر قومی خدمت کو ذاتی مفاد پر مقدم کیجئے۔آخر انہوں نے فرمایا میں بھٹی واپس جا کہ جواب دوں گا بچند دنوں کے اندر ان کی اطلاع مل گئی کہ انہیں منظور ہے۔میں پینے جاکر سر سید سلطان احمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔انہوں نے فرمایا میرے لئے یہاں سے نکلنا مشکل ہے لیکن اگر تمہاری خواہش ہے اور وائسرائے رضامند ہیں تو مجھے عذر نہیں