تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 433 of 736

تحدیث نعمت — Page 433

۳۳ سیر فیروز خان اور سر اکبر تیری کون میں دوسرے سلمان رکن کی تقریر کے سلسہ میں اس رائےکچھ عرصہ کا تقریر بطورہ اراکین کو نسل تذبذب میں رہے کہ سرسکندر حیات خان صاحب کو لیا جائے یا سر فیروز خان و صاحب کو آخر اب اسٹار میری ز یہ ہندکی رائے مک فروزان نون کے تم میں پختہ ہوگئی اوران کا انتخاب لقب وزیر دفاع ہوا۔تیسرے مسلمان مین کونسل کیلئے مراکبر حیدری صاحب کا انتخاب وائٹریٹ نے خود کیا۔جب مجھے طلاق ی توں نے مشورہ دیا کہ میرے سلمان رکن کا انتخاب بھی برطانوی ہندسے ہونا چاہیے۔وائسرائے نے سر کبرحیدری کے ندیه ، دانش اور تجربے کی تعریف کی۔میں نے کہ ان کی یہ خوبیاں تو سلمہ ہیں لیکن ابھی فیڈریشن کی تشکیل نہیں ہو سکی اور مرکزی حکومت میں ریاستوں کی نمائندگی قبل از وقت ہے۔وائسراے اپنی بات پر مصر رہے۔حقیق یہ تھی کہ گو وائسرائے یہ بھی چاہتے تھے کہ کونسل کے رکن تعاونی رحجان رکھتے ہوں تا کہ دوران جنگ کونسل کے اندر سنجیدہ اختلافا رونا ہوں لیکن انکی رین بی بی معنی که ریاست حیدر آباد میں سراکبر عبدی کو جو حیثیت حاصل ہو چکی ہے اسے کمزور کیا جائے اور انہیں وہاں سے باہر لا کر حضور نظام پر اپنی مرضی کے موافق اثر ڈالنے کیلئے رستہ صاف کیا جائے۔میں نے انہی دنوں جنوبی ہند کے دورے کا پروگرام بنایا اور رستے میں روون جدہ آباد قیام کیا۔حیدر آباد میں سید اکبر حیدری سے ملاقات ہوئی وہ بہت تذبذب میں تھے وائسرائے نے ایک خط نہیں لکھا تھا اور ایک حضور نظام کو دونوں میں نواب صاحب کی قابلیت اور لیاقت کی بہت تعریف کر کے لکھا۔مجھے اس مرحلے پر ان کی رہنمائی کی بہت ضرورت ہے امید ہے حضور تمام جنگ کے حالات کے پیش نظر حکومت ہن کے بانھ مضبوط کرنے کی خاطر نواب صاحب کو حیدر آباد سے فارغ کرنا گوارہ فرمالیں گے۔نواب صاحب نے مجھ سے دریافت فرمایا تمہارے خیال میں وائٹ لیئے کے اس اقدام کی اصل محرک کیا چیز ہے؟ میں نے کہا اول آپکو حیدر آباد سے ہٹ کر شملہ اور دلی کے جانا ، دوستی کونسل میں آپ کی تائید حاصل کرنا۔پوچھا تو کیا تمہاری رائے میں مجھے انکار کر دینا چاہیئے ؟ میں نے کہا انکار تو نامناسب ہوگا اگر آپ انکار کر دیں تو می دائرہ نے کسی بہانے آپ کو میاں سے تعلیحدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اور آپکے لئے جو کچھ خدمت کا موقعہ کونسل میں جو گاوہ بھی جاتا رہے گا۔پوچھا پھر مجھے یا کرنا چاہئے ، میں نے کہا آپ شکریے کے ساتھ وائسرائے کی پیشکش قبول کر لیں۔مگر کونٹ میں اس پختہ عزم کے ساتھ جائیں کہ وہاں آپ کا کام وائسرائے کی ہاں میں ہاں ملانا نہیں بلکہ ملک کی خدمت کرنا ہو گا۔وائسرائے آپ کے نذیر، دانش اور قابلیت کے معترف تو نہیں لیکن وہ ان سے یہ فائدہ اٹھانا نہیں چاہتے کہ خود آپ کے مشوروںکے مطابق عمل کریں بلکہ یہ چاہیں گے کہ آپ کی تائید حاصل کرکے در سروں سے اپنی بات منوا سکیں۔جہاں انکی رائے آپ کو صائب نظر آئے آپ ضرور کی تائید کریں آپ کے رفقاء میں سے بھی اکثر میں کریں گے۔لیکن جہاں آپ کو ان کی رائے ملک کے مفاد کے حق میں نظر نہ آئے وہاں آپ سنجید گی اور مضبوطی سے اپنی رائے بیان کریں اور اس پہ قائم رہیں۔یہ طریق آپ کے رفقاء کی حوصلہ افزائی کا موجب بھی ہو گا اور