تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 411 of 736

تحدیث نعمت — Page 411

راسم اور وہاں سے براہ راست وزیر قانون کے پاس بھیجی جاتی تھیں۔وزیر قانون ان پر غور کر کے اپنی رائے کا اظہار کرتا تھا۔اگر وزیر قانون کی رائے ہوتی کہ در خواست رد ہونی چاہیے تو معاملہ میں ختم ہو جاتا اور درخواست نامنظور ہو جاتی۔اگروزیر قانون تخفیف یا سند کی معافی کا مشورہ دنیا تو وزیر داخلہ مسل کے مطالعہ کے بعد اپنی رائے کا اظہار کرتے اگر دونوں وزیراء متفق ہوتے تونسل گور نہ منزل کی خدمت میں بھیج دیجاتی اور وہ عموماً متفقہ مشورے کو منظور فرما لیتے اور اس کے مطابق حکم جاری ہو جانا۔اگر وزیر داخلہ وزیر قانون کی رائے سے اختلاف کرتے تو مسل ان کے نوٹ کے ساتھ وزیر قانون کے پاس واپس جاتی اور وہ وزیر داخلہ کے نوٹ کے متعلق اپنی رائے کا اظہارہ کرتے اس کے بعد مسل گور نہ جنرل کی خدمت میں بھیج دیجاتی۔ایسی صورت میں وہ عموماً در خواست رد کر دیتے۔جتنا عرصہ میں وزیر قانون رہا میری طرف سے اوسطا ہر مہینے میں تین چارہ درخواستوں پر تخفیف سزا کی سفارش ہوا کرتی تھی اور وزیر داخلہ شادی میری رائے سے اختلاف کرتے۔کبھی کبھی میں سند کی معافی کا مشورہ بھی دیا۔ایسے کسی کیس میں وزیر داخلہ نے میرے مشورے سے اختلاف نہ کیا۔سزائے موت کے خلاف درخواستوں کی کثرت صوبہ مدر اس سے موصول ہوتی تھی۔دو سر انبر پنجاب کا تھا اور تفسیر مرکبات متحدہ کا امیں نے شروع سے یہ اصول رکھا کہ اگر کسی مجرم کے حق میں کوئی گنجائش بھی نظر آئے تو موت کی بجائے عمر قید یا اس سے بھی کم سندا کی سفارش کی جائے۔عمرقید سے مراد چودہ سال کی قید با عبور دریائے شور مراد لی جاتی تھی اور نیک چلنی کی رعایت سے پورا فائدہ اٹھانے والے کو ڈیڑھ سال کی مزید تخفیف مل جاتی تھی۔موت کی سند کے متعلق ایک ہول ن نے یہ بھی کیا ہواتھا کہ اگر نا کا حکم صادر ہوےیک سال کام رہ گیا ہواور پانی نہ دی جاسکی ہو۔تو ان تاخیر کو تخفیف سزا کیلئے معقول وجہ سمجھا جائے کیونکہ تو ملزم پھانسی پانے کے فون میں ایک سال گزار چکا ہے وہ اتنی عقوبت برداشت کر چکا ہے کہ اتنے عرصے بعد اسے پھانسی دینا ظلم ہوگا میرے اس نظریے کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ اور کا ہور ٹائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان نے وائسرائے کی خدمت میں احتجاج کیا۔وائٹ ایٹ نے ان کے مراسالا مجھے بجھوا دیے۔میں نے جواب دیا افسوس ہے واجب الاحترام چیف جسٹس صاحبان کو یہ نہیں سوچھا کہاس تاثیر کا علاج ان کے اپنے ہاتھ میں ہے اگر پھانسی کی سزا والے مقدمات کا آخری فیصلہ سنہا کے حکم کے ایک سال کے اندر ہو جایا کرے تو یہ صورت پیدا ہی نہ ہو۔مناسب ہو گا اگر گورنہ جنرل صاحب انہیں توجہ دلائیں کہ وہ اپنی اپنی ہائی کور ی پانی کی اپیلوں میں اتے نے عرصے کی تاخیر کاعلاج تو نہ کریں تا کہ یہ موت آئندہ پیدانہ ہو۔لاہور تائی کورٹ کے چیف جسٹس سرڈگلس بیگ نے مجھ سے ذکر کیا کہ بخشی یک چند صاحب کہتے ہیں کہ م نے ایک ایسے مجرم کی پھانسی کی سزا کو صرف تین سال قید میں بدل دیا جس کی پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل انہوں نے بہت غور کے بعد رد کردی تھی۔میں نے چیف جسٹس سے کہا آپ اس کیس کی مسل منگوا کر ہائی کورٹ کا فیصلہ پڑھو لیں اگر آپ کو اس فیصلے کے ساتھ الفان