تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 400 of 736

تحدیث نعمت — Page 400

یم قریب کر دی تھی اور ہم یہ نظارہ دیکھ رہے تھے :- مرا عہد لیست با جانان که تا بحال در بدن دارم ہوا دا بری کوشش را ایجان خویش من دارم دار مئی اتوار کے دن پونے دس بجے قبل دو مہر ہم قادیان پہنچے ہیں نے والدہ صاحبہ کی خدمت میں عرض کی قادیان آگیا ہے۔فرمایا بسم الل بسم الله " میں نے کہ آپ کو کوٹ سے میں فرمایا ہا اپنی کوٹھی لے چلو بیت انفرینچ کہ آپ کا لنک نچلی منزل میں گول کمر میں بچھایا گیا۔میں نے عرض کی آپ نے مکان پہچان لیا؟ فرمایا ہاں۔پھر ٹس نے کہا آپ کا اپنگ تھیلی منزل میں ہی گول کرہ میں ہے۔اس پر نظراٹھا کر کمر کی دیواروں کودیکھا اور فرمایا تم نے پہچان لیا ہے۔اب روح کو اطمینان ہوگی کہ خدا کے مسیح کی تخت گاہ تک پہنچنے کی مہلت مل گئ اور کوئی اور خواہش باقی نداری عصر کے وقت ڈسکہ سے کفن کی چادریں بھی پہنچ گئیں وہی جو ۱۴ سال قبل زمزم کے پانی سے دھوئی گئی تھیں رات آئی اور کسی ایتالیا معلوم مونا خاکه کسی روحانی شہزادی نے ہارے گھر کو اک رات کیلئے اپنی قیام گاہ تجویز کر کے اسے فور سے بھر دیا ہے اور ہر لحظہ یہاں فرشتے نازل ہو رہے ہیں۔نصف شب کے قریب جب بظاہر کئی گھنٹوں ے مہوشی کا علم تھا کس نے مجھ سے کہا تم جاؤ تو جواب دیں میں نے بلایا تو جواب دیا ہاں۔تین بجے کے قریب جب نجد کا وقت ہوا تو کامل بیہوشی کی حالت ہوگئی۔محض سائنس آنا تھاگویا اپنے رویا کے مطابق پالکی میں سوار ہونے اور سفر شروی کرنے کیلئے تیار ہوگئی تھیں۔صبح ساڑھے سات بجے کے قریب میں نے والدہ امتہ الحمی سے کہا کہ سب لوگ ناشتہ کر لیں کیونکہ ان کا عہد ہے کہ بچے ناشتہ کر لیں گے تو روانہ ہوں گی۔سانس روکو قوت ملے تیز ہوگیا تھا ساڑھے آٹھ بجے کے قریب بلکا ہونا شروع ہو گیا، اور جب گھر کے لوگ مہمان اور ملازم سب ناشتہ ختم کر چکے تو نو بجے کے قریب روج اپنے مولا کے حضور حاضر ہوگئی۔یہ 14 مئی ۳ ء سوموار کا دن تھا۔۱۲ بجے کے قریب جسم کو اس مقام پر سپرد خاک کردیا گیا جو پہلے سے اس کی آخری قیام گاہ نمونہ ہوچکا تھا۔وكل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاكرام - وہ محبوب وجود ہمارے درمیان موجود نہ رہا۔اسپیارے چہرے کو آنکھیں تلاش کریں گی لیکن نہ پاسکیں گی۔ہم ان کی مسلسل درد بھری دعاؤں سے محروم ہو گئے لیکن ہم نے اللہ تعالی کی رضا کو خوشی سے قبول کیا۔اور اس نسیال سے اطمینان حاصل کیا کہ ہماری والدہ نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا جوئی میں گزاری۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان کے ساتھ وافر رحم کا سلوک فرما ہوگا اوراپنے لئے واکرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں بھی انی رضا کے مطابق عمل کرنے کی توفیق بخشے اور امید رکھتے ہیں کہ ہمارا وقت آنے پر دہ ہمیں بھی اپنی رحمت میں داخل فرمائی کا آمین۔میرے لئے جب وہ وقت آئے گا اوراللہ تعالٰی کی رحمت پھر یہ مکن کر دے گی کہ میری نظر پھر اس پیارے پرے