تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 398 of 736

تحدیث نعمت — Page 398

| والدہ صاحبہ نے بہت حیرت سے کرا کر کہا، اچھا ؟" اس دن در پیر کو والد صاحب کو استلا ء کی تکلیف نہ ہئی اور یہ وقت کو تشویش کا ہوا کرتا تھا بیرت گذر گیا۔جس سے کچھ امید ہونے لگی کہ اللہ تعالی اپنے فضل سے انہیں شفا دیگا۔ارٹی ہفتہ کے دن دو بیر تک والدہ صاحبہ کی وہی الت رہی۔دوپہر کے وقت سب لوگ تو چودھری بشیر احمد صاب کے ہاں کھانا کھانے کیلئے چلے گئے۔والدہ انتہائی اورمیں والدہ صاحب کے پاس رہے۔کھانا کھانے کے بعد دو بجے کے قریب میں وضو کر رہا تھا کہ مھے کسی نے آواز دی کہ والدہ صاحبہ یاد فرماتی ہیں۔میں ن کے کمرہ میں گیا تو دیکھا کہ انہوں نے اپنی نبض پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔مجھے دیکھ کرمسکرائیں اورکہا آو بیٹا ب آخری باتیں کرنیں اور اپنے بھائیوں اور بہن کو بھی بلا لو۔ڈاکٹر صاحب اس وقت کمرہ ہی میں ٹیک تیار کر رہے تھے انہوں نے انگریزی میں مجھ سے کہا دل کی حالت بگڑ گئی ہے اور فیض بھی بہت کمزور ہوگئی ہے۔لیکن میں نے والدہ صاحبہ سے کچھ نہیں کہا۔انہوں نے خود می نبض سے شناخت کر لیا ہے۔اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ٹیکہ کیا اور سول سرمن صاحب کو بھی ٹیلیفون پر ملالیا۔ٹیکہ کرنے کے تھوڑی دیر بعد ڈاکٹڑھاوں نے نبض دیکھ کر کہا ہے اب تو فیض ٹھیک چل رہی ہے۔والد صاحب نے خود ہی دیکھ کر فرمایا ٹھیک تو نہیں چل رہی واپس گئی ہے لیکن ابھی کمزور ہے۔اتنے میں وہ سب عزیز تو کھانا کھانے کیلئے گئے ہوئے تھے واپس آگئے اور چو ہدری بشیراحمد قصاب ار شیخ المجانا حمدصاحب بھی اطلاع ملنے پر تھوڑی دیر کے بعد چھری سے اگئے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا یہ وقت سب پہ آتا ہے اور اولاد کوجب والدین سے جدا ہونا پڑتا ہے تو انہیں کرب بھی ہوتا ہے۔لیکن میںاللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوں اور خوشی سے اس کے حضور چارہی ہوں۔میں تم سب سے رخصت ہونا چاہتی ہوں سکتی چاہتی ہوں کہ تم لوگ رونے دھونے سے باندر ہو ، اسوقت بھی اور میرے بعد بھی ، پھر ہمشیرہ صاحبہ کے کان میں کچھ کہا ، پھر باری باری سے والدہ صاحبہ نے بیٹوں کو پیار کیا اور دعاری اور پھر یہودی سے اور ایسا ہی بشیر احمد اعجاز احمد سے اور ڈاکٹر صاحب سے اور امینہ بیگم سے اور احمدہ بیگم سےاور غلام نی اور عزیز احمد اور چودھری فضل داد صاحب سے رخصت ہوئیں پھر امت اٹلی کو بلایا اور اے پیار کیا ، پھر عبدالکریم کو بلوایا اور اسے دعادی ، غرض جو کوئی بھی موجود تھا اس سے رخصت ہوئیں ، غلام نیا اس وقت غم سے بہت مضطرب ہوا جار ہا تھا سے تسلی دی اور مجھے فرمایا دیکھوبیٹا اگر اس سے کبھی کوئی قصور سرزد ہو جائے تو اس وقت کو یاد کرتا اور اسے معاف کر دیا۔پھر شکم اللہ خان کی بیوی سے دوریت یا مریم صدیقی نے آئی ہو؟ اس نے کچھ چیران ہو کر پو چھا کونی صندوقی به والدہ صاحب نے جواب دیا ، در حین میں سے کفن کی چادریں رکھی ہیں۔بی بی نے کہا ہم نے توتا ملتے مجادلی آنے کی تیاری شروع کردی۔جلدی میں کچھ اور سوتھاہی نہیں اور یہ بھی علم نہیں تھا کہ وہ مندر تھی ڈسکہ میں ہے، والدہ صاحب نے فرمایا میںنے تو کوئی تار نہیں دلوایا ہیں نے عرض کی تار میں نے دیئے تھے۔