تحدیث نعمت — Page 380
اور میرا کام بہت ہلکا کر دیا۔میں نے قرار داد پاس کی ہ معاہدے کے بعض پہلوؤں کی ترمیم کیلئے کوشش کی جائے تاکہ معاہدے کے فوائد میں معتد بہ اضافہ ہو سکے۔نیز یورپ کے دیگر ممالک کے ساتھ ہندوستان کی تجارت کو بڑھائے کے طریقے اختیار کئے جائیں۔معاہدے کی تیہ میم کے سلسلے مں مرکزی مثلہ یہ تھا کہ انکا شائر کے تیار کردہ سوتی کپڑے کی درآمد پر جو رعائتی محصول عاید ہوتا ہے اس کی شرح بڑھائی جائے اور برطانیہ پر زور دیکر اسے پابند کیا جائے کہ وہ ہندوستانی کپاس زیادہ مقدار میں خرید کرے۔اور بھی بہت سے اہم مسائل ہندوستان اور بر طانیہ کے در میان قابل حل تھے۔لیکن یہ مسلہ اپنی نوعیت میں سے بڑھ کر تھا میٹی اور احمد آباد کے سوتی کار خانوں کے لک مصر تھے کہ برطانوی سوتی کپڑے پر محصول کی رعایت کواگر منسوخ نہ کیا جاسکے تو اسے سبق ہو سکے کم کیا جائے۔زمیندار طبقہ زور دیتا تھا کہ ہندوستانی کپاس کی کھپت برطانیہ میں بڑھانے کی تدبیر کی جائے۔شاہ جارج پنجم کی وفات پر پرنس آف و علی کی جانشینی اور سر جنوری شہد میں شاہ جان تیم فوت کمپن سے شادی پر اصرار کی وجہ سے تخت و تاج سے دستبرداری ہوئے اور ایڈورڈ ہشتم ان کے جانشین ہوئے مینز سیمپین کا قضیہ شروع ہو چکا تھا۔شاہ ایڈورڈران کے ساتھ شادی کرنے پر مصر تھے۔انداندہ کیا جاتا تھا کہ وہ اس تجویہ کو قبول کر لیں گے کہ مسز سمپسن کو شادی کے بعد تخت و تاج میں شریک نہ کیا جائے اور ان کی اولا تخت کی وارث نہ تو بیکن وزیراعظم مٹر بالڈون اس تجویہ کو قبول کرنے پر تیار نہ تھے۔ادھر لیا کے لئے یہ وقت تھی کہ شاہ برطانیہ کلیائے انگلستان کے سربراہ ہیں۔کلیب کے قواعد ایک مطلقہ عورت کے ساتھ جس کا میلا خاوند زندہ ہو شادی کی اجازت نہیں دیتے۔اس قاعدے کی خلاف ورزی کر کے بادث و کلیسا کے سربراہ نہ رہ سکتے۔غرض یہ معاملہ ایک نہایت نازک شکل اختیارہ کر گیا۔آخر بادشاہ نے تخت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا اور ان کی جگہ ان کے برادر اصغر ڈیوک آن با رک جازی ششم کے عقب کے ساتھ شاہ برطانیہ ہوئے۔سفرڈ لندن میں سرفروز خان نون کا تقر بطورہ ٹائی کمشنر ا میں نے جب نومبر سلسلہ میں سر موندن بھور سے لندن میں ہائی کمشنر کے تقریر کے متعلق دریافت کیا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ وزیر ہند کے ریکمی احکامات تو صادر نہیں ہوئے لیکن ان کے اندازہ کے مطابق کوئی ایسا امیدوار میدان میں نہیں جو ان سے زیادہ اس منصب پر نقر کا حق رکھتا ہو میں شہر میں جب میں ان سے چارج لے چکا تو معلوم ہوا کہ سر جوزف کے کہنے پر وائسرائے نے و زیر بند کی خدمت میں سفارش کی تھی کہ ہائی کمشنر کا عہدہ خالی ہونے پر سر جوزف کا اس عہدے پر تقریر کیا جائے وزیر مہند نے جواب دیا کہ جلدی کیا ہے ابھی بہت وقت پڑاہے اور چونکہ بانی متن کامحکمہ تجارت کے حملے کے نیچے آتا ہے لہذا وزیر تجارت کی رائے معلوم کرنا بھی ضروری ہے۔اسلئے ظفر اللہ خان جب چارج لے چکے تو میں اسکی رائے کا بھی انتظار کروں گا۔شاہ کے دوران میں سر سیموئل اور فرسٹ لارڈ آف ایڈ پر لیٹی ہو گئے اور لارڈز ٹیلنٹڈ انکی جگہ