تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 372 of 736

تحدیث نعمت — Page 372

اتلطف ریکی تعریفی کلمات کہنے ہی تھے لیکن چیف جٹس جنگ نے ایک رقعہ لکھ ر گورنر کو بھی کہ وہ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں۔اپنی باری آنے پر انہوں نے بہت تعریفی کلمات فرمائے اور آنجہ میں کہا ایک لحاظ سے میں نے اطمینان کا سانس لیا ہے کہ یہ انتباہی سے جانیوالا ہے۔کیونکہ اس کی یہاں موجودگی اس صوبے کے ان وامان کے لئے خطرے کا باعث ہو رہی تھی۔جب یہ سیر اعلاس کے کمرے میں داخل ہوتا تھا تو میں چوکس ہو جاتا تھا مبادا اس کے زور خطابت کے اثر کے تحت مجھ سے سرکار کے حق میں کوئی بے انصافی سرزد ہو جائے۔باوجود اس کے فوت یا تک پہنچ گئی تھی کہ کوئی شخص چاہے کسی بھی جرم کا مرتکب ہوا ہو اسے کہیں کر لیتا تو صاف بچ نکلتا تھا۔جب تقریروں کا سلسلہ ختم ہو گیا اور مہمان اور میزبان کرسیوں سے اٹھ کہ بات چیت میں لگ گئے تو میں نے چیف جسٹس سے کہا آپ نے جو کچھ فرمایا میں اس کیلئے نہایت ممنون ہوں۔لیکن آپ کی ایک بات پورے طور پر مجھے نہیں تھی۔پوچھا وہ کونسی؟ میں نے کہا آپ نے فرمایا جو ملز مجھے وکیل کرتا تھا وہ ان کے نکلا تھا۔فرمایا اس میں کیا لی تھی کیا میں نہیں میرے اس میں تم ہمیشہ کامیاب رہے ہو ؟ میں نے کہا یہ درست ہے لیکن میں آپکے اعلان میں قدم رکھنے سے پہلے ملزم پر خاصا حجرمانہ کرلیا کرتا تھا ہنس کر فرمایا ہاں مجھے کیا چاہیے تھا کہ سر عام پھانسی اور قید سے بچ نکلتا تھا۔خان بہادر نادر شاہ میرے پرسنل اسٹنٹ خان بہادر نادرشاہ صاحب کی عمر چنین سال سے تجاوز کر سکی تھی اور میاں صاحب ان کی ملازمت کی میعاد یں توسیع بھی فرما چکے تھے۔جب تک و اساس سال کی عمر کو پہنے میں بھی قواعد کے مطابق سال بسال ان کی ملازمت کی میعاد میں توسیع کرتا رہا اس کے بعد قواعد کی رو سے توسیع کی گنجائش نہ تھی۔ملازمت ختم کرنے پر خان بہادر صاحب کراچی میں رہائش پذیر ہوئے مجھے جب بھی کراچی جانے کا اتفاق ہو ت میں ضرور ان کی خدمت میں حاضر ہوتا۔وہ بڑے فرض شناس محنتی اور دیانتدار افسر تھے۔سر جیمز گرگ کی صاف دلی مجھے شاپنا بھی دیتے ہوئے کہ ایک پر پانچ بجے کے قرب مرتی ارگ دفتر سے اپنے مکان کو لوٹتے ہوئے رہتے ہیں میرے مکان ریٹریٹ پر چند منٹ کیلئے رک گئے۔میں نے ناشتے میں شامل ہوئے و کہا فرمایا مجھے جلدی ہے اس وقت زیادہ ہیں ٹھہر سکتا صرف دو باتیں کہنے کیلئے آیا ہوں۔ایک تویہ کہ تمہارے عمران کی تبدیلی کے متعلق جو سازش بھور نے کی تھی میں اس میں شامل تھا۔اب اس کی اصلیت مجھ پر کھلتی جارہی ہے۔بھور بہت چالاک شخص تھا۔اس کے جانے کے بعد مجھے اس کی چالاکیوں کاعلم ہونا شروع ہوا ہے۔ایک میں اندھیرے میں ریلہ دوسری بات یہ ہے کہ تمہارے دونوں محکمے ایسے ہیں جن میں وزارت خزان کو منوانہ دلچسپی رہتی ہے۔اور محکمہ تجارت کی مسلمیں تو ہر روز میرے پاس آتی ہیں۔میرے تمہارے درمیان بہت دفعہ اختلاف ہوگا۔یہ کوئی فکر کی بات نہیں۔ہم آپس میں تبادلہ خیالات اور مقاسمت با ہمی سے فیصلے پر پہنچ جایا کریں گے۔جو بات میں اس وقت کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے ہندوستانیوں میں یہ کمزوری دیکھی ہے کہ ذمہ داری لینے سے گھبراتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ آخری ---