تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 368 of 736

تحدیث نعمت — Page 368

سے میرے بیٹے کو سر فروٹی سے واپس لائیو۔والدہ صاحبہ مقدمات میں بھی دو میپی لیں۔ایک دن شام کے کھانے کے بعد میں نے ایک کیس کا ذکر کیا جس کی سماعت دوست دن صبح کو ہونے وای تھی اور دعا کیلئے گذارش کی۔یہ سنا کہ ملزم پر اپنی وی کے قتل کا الزام ہے میری بیوی نے کہا یہ ہواتو ضرور پھانسی پر لٹنا چاہیے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا مٹی میں تو ہر ایک کے لئے خدا سے دم کی ہی التجا کرنی چاہئے۔ہمیں کیا معلوم اس نے یہ جرم کیا ہے یانہیں اور اگر کیا بھی ہے تو اس کے بھانی پر ٹھکنے سے اس کی بوی تو واپس آنہیں جائے گی۔اللہ تعالی انتہار ہے۔اس سے بخشش ہی کا طلبگار ہونا چاہیئے۔مجھے دوسری شام جب میں نے ذکر کیا کہ آپ کی دعا قبول ہوی اور اللہ علی نے اس پر یہ فرمایا کہ اللہ تعالی بہت بخشنے والا ہے۔چیف جسٹس بیگ پہلے دن سے یہ دیکھو کہ کہ میں ان کے نشا کے مطابق کیس تیار کرتا اور پیش کرتا ہوں میری گذارشات توجہ سے سنتے اور ساتھ ساتھ تائیدی جملے کہہ کر میری حوصلہ افزائی فرماتے۔یہ تو مجھے یاد نہیں پڑتا کہ انہوں نے میری کسی گزارش کو کبھی تو کیا ہو۔البتہ بعض دفعہ الی ضرور ہوا کہ نہوں نے میری گذارش سے بھی بڑھ کر میرے حق میں فیصلہ صادر کیا۔ضلع گو جرانوالہ کے ایک گاؤں کے کچھ لوگ جب کبھی کے میلے سے اپنے گاؤں کو لوٹ رہے تھے۔رستے میں ایک تحریف کے ساتھ تکرار ہوگئی ملزمان چارکس تھے۔انہوں نے لاٹھیوں سے حریف کو زدو کوب کیا۔اس کی تین بچارہ پسلیاں ٹوٹ گئیں اور بیٹھ کر ایک ضرب سے اس کا ایک گردہ پھٹ گیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔چاروں ملزمان کو قتل عمد کے جرم میں پھانسی کی سزا ہوئی میں نے اپیل میں ان کی طرف سے دو گزارشات کیں۔اول ان میں سے دو کے متعلق شہادت سے ثابت کیا کہ جس معاملے پر تکرار ہوئی تھی اس کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔اسلئے کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ متوفی کے ساتھ الجھتے۔پھر شہادت سے یہ بھی ثابت کیا کہ بعض گواہان کو ان دو کے ساتھ سابقہ عداوت تھی۔ان دو کے متعلق میں نے گذارش کی کہ انہیں شک کا فائدہ ملنا چاہئے اور انہیں بہری ہو کر رہا ہونا چاہیے۔دوسرے میں نے متوفی کی ضربات کی بناپر گذارش کی کہ دوسرے دو ملزمان کا تم قتل عمد کی حد تک نہیں پہنچتا۔پہلی کا ٹوٹنا ملک ضرب نہیں ہوتا اور متوفی کی موت پہلی ٹوٹنے سے نہیں ہوئی۔گردے کا پھٹنا اتفاقیہ امر ہے۔اگر مغرب دو اپنے ادھر ادھر لگتی تو ضرب خفیف قرار دی جاتی۔اندریں حالات ان دو ملزمان کا محروم ضرب شدید قرار دیا جانا چاہئیے۔یا زیادہ سے زیادہ مجرم زیمر دفعه ۳۰۰ حصہ دوئم تعزیرات ہند اور جو دفعہ بھی عاید تو پانچ سال قید با مشقت مناسب سزا ہونی چاہیئے۔چیف جئیں۔پہلی لوٹنا معمولی بات ہے۔پرنس آف و لطیہ کئی دفعہ گھوڑے سے گر کر منسلی توڑ چکے ہیں۔اور کئی لوگ ایک گردے کے ساتھ دوڑتے پھرتے ہیں ؟ ایڈوکیٹ منزل کی بحث سنتے کے بعد فرمایا۔چودھری صاحب آپ نے ہمارے لئے ایک مشکل پیدا کر دی ہے مجھے مجھے اندیشہ ہوا کہ آج شاید میری دلیل تسلیم نہیں کی جائے گی ، آپ نے استغاثہ کی شہاد کو ماری نگہ میں مشتبہ کر دیا ہے ، اگر دو