تحدیث نعمت — Page 364
کا امکان نہیں۔قلمدان میں تبدیلی کے متعلق جو گفتگو ہوئی اس کا خلاصہ میں نے وائسرائے کی خدمت میں گذارش کر دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ سر توزف مصور نے مجھے اطمینان دلایا ہے کہ وہ اہم معاملات کے متعلق کا غذات مجھے بھیجتے رہیں گے فرمایا بیشک بیشک میں نے تصور کو تاکید کر دی ہے۔اچھا اب تم گرگی سے بھی مل لو تمہیں پہلے اس سے ملنے کا کبھی اتفاق ہوا ہے؟ میں نے کہا نہیں جناب فرمایا اس کے طرز گفتگو پہ نہ جاتادہ بہت منہ پھٹ ہے۔لیکن آدمی اچھا ہے۔وائسرائے کی خواہش پر سر میز گرگ می سر میز گرگ کی دم میںان کی قیام گاہ پر حاضر ہوا کچھ تو اسے رکن کو غسل سے ملاقات نے ہی بتا دیا تھا۔کچھ میںان کی شہرت پہلے سن چکا تھا۔میں نے اسی کے مطابق گفتگو شروع کی۔ظفر اللہ خاں۔سر جیمز ! ہمیں اس سے پہلے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا۔یہ پہلا موقعہ ہے۔آپ مجھے جانتے ہیں لیکن آپ مجھے نا پسند کرتے ہیں۔ممکن ہے اس کی یہ وجہ ہو کہ آپ کو مبیسویں صدی میں کسی شخص کا داڑھی رکھنا پسند نہ ہو میکنی یہ میرا ذاتی معاملہ ہے جس میں کسی اور کا دخل نہیں۔کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ اس کے علاوہ آپ کی ناپسندیم کی کا سبب کیا ہے؟ سر میز گرگ - ( ذرا حیرت سے ) تم تو بڑے صاف گو معلوم ہوتے ہو۔میں بھی صفائی سے بات کرنے کا عادی ہوں۔وجہ یہ ہے کہ فضل حسین سخت فرقہ پرست ہے مجھے معلوم ہے تم اس کے گہرے دوست اور سیاسی شاگرد ہو۔ریلی کوت نیند کا م سے بڑا سرمایہ میں تمہیں شاید معلوم نہ ہو کہ ریل کے محکمے کا بجٹ حکومت ہند کے سارے بجٹ سے نہیں میں فوج اور دفاع کے اخراجات بھی شامل ہیں زیادہ ہے۔اس محکمے کو ایک فرقہ پرست کے سپرد کر دینے کے معنی ہیں کہ حکومت ہند کو دیوانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ظفر اللہ خان۔میں آپ کی صاف گوئی کا ممنون ہوں۔چونکہ اب مجھے ناپسندیدگی کی وجہ معلوم ہوئی میں اس کا جو دینے کی کوشش کر سکتا ہوں۔اس صاف گوئی کی تہ میں بہت کچھ گدلا پن ہے میں سے آپ آگاہ نہیں۔سر فضل حسین یقینا ہر وقت کوشاں رہتے ہیں کہ ہندوستانیوں کا قدم مبقدر جلد ہو سکے آگے بڑھتا جائے اور اس دور میں مسلمانوں کو بھی ان کا سائمہ اور مناسب حصہ ملتا ہے۔اگر یہ فرقہ پرستی ہے تو وہ ضرور فرقہ پرست ہیں۔مجھے بیشک یہ فخر حاصل ہے کہ وہ میر ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے لیکن ان کا یہ خاصا نہیں کہ وہ دوسرے شخص کے معاملات اور اور اس کی ذمہ داریوں کے نبھانے میں خواہ مخواہ داخل دیں کیاء میں جب میں نے ان کے رخصت پر جانے کے وقت ان کی جگہ کام شروع کیا تو مجھے پہلے ایسے کام کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔میں نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ مناسب ہدایات دی ہیں۔جوابت میں انہوں نے فرمایا تھا میں ہر وقت تمہارے ساتھ تو کھڑا نہیں رہوں گا تم اپنی ہمت سے تیرو گے یا غرق ہو گئے ہو شخص اپنے محکمے کے متعلق اپنی جگہ کام کرنے والے کو الیسا کہتا ہے اس کے متعلق کسی کو یہ انداشتیہ نہیں ہو نا چاہئے کہ وہ کسی دوسرے