تحدیث نعمت — Page 363
وسم بعد میں گرگ سے بھی مل لینا۔میں نے کہا مجھے اس میں کوئی تامل نہیں وائسرائے کی خواہش پر سر سوزن بھور سر فرنیک | دائرے نے اپنے پرائیویٹ سیکر یٹری سے کہا بھور وغیرہ نوئیں اور سر این این سر کار اراکین کونسل سے ملاقات سے ظفر اللہ کی ملاقات کا انتظام کرد - سرمونز نابور نے کہا میں سرکار اور نوشی کو اپنے ہاں بلالیتا ہوں ظفراللہ سے کہ وہ میرے دفتر میں آجائے۔میں وہاں گیا تینوں اصحاب موجود تھے لیکن بات چیت سر تو بہن بھور ہی کرتے رہے۔اسمبلی کی کارروائی کی مجلد رپور ٹوں کا ڈھیر ان کے سامنے رکھا ہوا تھا۔ان میں نشان کے طور پر کاغذ کے سلپ رکھے ہوئے تھے۔جو بات دوائر نے نے مختصر الفاظ میں ا مجھے بتائی تھی انہوں نے تفصیل بتائی اور ساتھ حوالے بھی پڑھ کر سنائے۔وہ ہر دو تین منٹ کے بعد رکتے اور میری طرف دیکھنے میں خاموش بیٹھا رہا۔آخر ان کی بات ختم ہو گئی اورمیں پھر بھی ویسے ہی خاموش بیٹھا رہا بھور نے میری طرف دیکھا پھر اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا۔آخر مجھ سے کہا والا ہے چاہتے تھے ہم یہ معاملہ تم پر واضح کر دیں۔یں نے پھر بھی کچھ نہ کہا تو دوسری مرتبہ پھر کہا۔وائسرائے کی خواہش تھی کہ یہ صورت وضاعت سے تمہیں تبادی جائے۔می نے کہا بہت تقوب آپ نے وضاحت کر دی۔کیا وائراے نے کچھ اوربھی کہا تھا ، پو چھا کا مطلب، میں نے کہا اپنے وضاحت کر دی کی والہ نے نے یہ بھی فرمایا تھا کہ وضاح کے بعد کیا کرتا ہے؟ کہا اسکے متعلق تو کچھ ہنس کیا لیکن کیا تم اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔میں نے کہا میں صر اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے اس قلمدان کی خود خوامش نہیں کی تھی۔اور کتونیہ کو دنہ یہ ہند نے یہ کہ کہ کہ وائرلیئے اور وہ دونوں چاہتے ہیں کہ میں یہ قلمدان سمبھالوں مجھے اس پر راضی کیا تھا۔اب آپ کہتے ہیں آپ آسمبلی میں اس کے متعلق کچھ وعدہ کر چکے ہیں۔جو کچھ آپ نے اسمبلی میں کہا وہ سو اکتوبر سے پہلے کا ہے۔باد بود آپ کے اسمبلی کے اعلان کے وزیر سہند اور وائسرائے کا مجھے یہ قلمدان پیش کرنا اور میرا اسے قبول کرنا آپ کے اعلان کو منسوخ کرنے کے مترادف ہے۔اگر آپ کا اعلان ۳ اکتومیہ کے بعد کا بھی ہو تو میں اس کا پابند نہیں اس دن مجھے یہ قلمدان پیش کیا جاچکا تھا گر بعدمیں کوئی تبدیلی مقصود تی توکم از کم مجھ سے مشورہ تو ہونا چاہئے تھا۔اس پر سر فرنیک نوئیں نے کہا ظفر اللہ میرا تو اس معاملے میں کوئی دخل نہیں میں آئندہ گرما میں رخصت پر جانا چاہتا ہوں میں تو صرف یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ رخصت سے واپسی پر میرا قلمدان کو فنا ہو گا۔میں نے کہا سر فر نیک مجھے کسی سے کوئی شکوہ نہیں۔سر جوزف نے مرا رد عمل معلوم کرنا چاہا سومیں نے بیان کر دیا ہے۔رخصت ہونے سے پہلے میں نے سر حوزہ ، بہور سے دریافت کیا کیا وائسرائے نے کوئی ہدایت دی ہے کہ متعلقہ محکمہ جات کی اہم کاروائیوں کے متعلق مجھے اطلاع دیکھاتی رہے۔فرمایا ضرور ضرور میں خود نہیں چاہتا کہ چارج لینے تک تم محکمہ کی اہم کاروائیوں سے بالکل نا واقف رہو تمہیں پوری اطلاع ملتی رہے گی۔میں نے دریافت کیا کیا لندن میں آئندہ ہائی کمشنر کے تقریر کے متعلق کچھ فیصلہ ہوا بہ فرمایا کوئی رسمی اطلاع تو وزیہ ہند کی طرف سے نہیں آئی۔لیکن یہ واضح ہے کہ اس منصب پر میرے علاوہ کسی اور کے تقریر