تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 362 of 736

تحدیث نعمت — Page 362

۳۶۲ امام جماعت احمدیہ کی طرف سے تحریک تجدید کا اجراء کر کے تھنے کا ایک نہایت نیک اور تر اور تیر تحریک جدید کا اجرائے تھا جونہ صرف فضل الہ جات کی تنظیم کی مضبوطی کا باعث ہوا کہ اس کے تنے میں بیرون ملک میں تبشیر اسلام کے ایک نہایت شاندار باب کا آغازہ ہو الحمد للہ۔مولانا روم نے کیا ہی خوب اور کیا ہی سے فرمایا پر بلا لیں قوم راستی داده اند زیر آن گنج کرم بنهاده اند جوزف بھور ممبر ریلوے د تجارت کی طرف نومبر سترہ میں میرے انگلستان سے واپس آنے کے کچھ سے ناکام کوشش کہ میرے چارج لینے سے دن بعد وائسرائے نے مجھے طلب فرمایا۔میں حضر مودا پہلے ریلوے کے محکمہ کا علیحدہ قلمدان بین تو فرمایا اسی میں اور پین اراکین کچھ عرصہ سے مطالبہ جائے اور مجھے صرف محکمہ تجارت کا چارج ملے کر رہے تھے کہ مواصلات کا ایک الگ قلمدانی ہونا چاہئے جس میں ڈاک تار ٹیلیفون ریلوے سب محکمے شامل ہوئی پچھلے ستمبر مں جب میں چھٹی پر تھا حکومت کی طرف سے اسمبلی میں وعدہ کیا گیا کہ ان کے مطالبے پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔اب بھور، سرکانہ ، گرگ اور نو میں کاخیال ہے کہ بھور کی میعاد ختم ہونے پر یہ تبدیلی عمل میں لائی جائے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارا قلمدان تجارت کے محکمے تک محدود رہ جائے گا۔تجویز یہ ہے کہ مواصلات کا محکمہ نویس کے سپرد کیا جائے۔امید ہے تمہیں اس تبدیلی پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔میں نے عرض کیا مجھے اس تبدیلی پر سخت اعتراض ہے اور میں ایسے قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ہندو اخبارات نے شور مچا رکھا ہے کہ حکومت کا سب سے بڑا قلمدان کونسل کے سب سے کم عمر رکن کے پرد کیا جارہا ہے۔میری کم عمری تو ایک بہانہ ہے اصل نشایہ ہے کہ یہ قلمدان مسلمان رکن کے سپرد نہ ہوا اور یہ معاملہ ایک ہند وسلم سوال بن گیا ہے جو میرے لئے پریشانی کا موجب ہے۔آپ جانتے ہیں میں نے یہ قلمدان طلب نہیں کیا تھا۔وزیر بند کی اور آپ کی خواہش تھی کہ میں یہ قلمدان سنبھالوں اس کا اعلان ہوتے ہی سندوں کی طرف سے اس تجوید کی مخالفت شروع ہو گئی۔ادھر مسلمانوں کا ایک طبقہ میرے تقریر ہی کا مخالف تھا۔اب اگر میں اس تبدیلی پر رضا مند ہو جاؤں تو وہ طبقہ کہے گا اسے خدمت کی تو کوئی خواہش نہیں اسے تو فقط کو غسل میں لئے جانے کی خواہش ہے خواہ اسے کوئی بھی محکمہ دیا جائے۔اور اگر کوئی کچھ بھی نہ کہے تو بھی میں خود اس میں اپنی خفت محسوس کرتا ہوں۔وائسرائے نے فرمایا مجھے اندیشہ تھا کہ تمہارا رد عمل میں ہو گا لیکن تم بھور سر کار اور نوئیں سے مل لو اور انکی بات سن لو ۱ سر بوزن بجور مبر تجارت دریلوے ۲۰- سریز بیندرانا تھ سرکار ممبر قانون - ۳ - سر جیمز گمرگ مبر مالیات کہ سرفر نیک نوشیں ممبر صنعت ڈاک و تارہ وغیرہ