تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 358 of 736

تحدیث نعمت — Page 358

۳۵۸ انسان ذکی الحس ہوتا ہے۔اور جن اشخاص کی ایسے جذبات سے شناسائی کی نہ جوہ ایسی ذکاوت حس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔میں آپ سے رخصت چاہتا ہوں۔ایک دن چھوڑ کر میرے دن گورنہ صاحب نے چارہ بجے بعد دوپہر تھے پھر یاد فرمایا اور کہا آپنے کچھ سوچاکہ موجودہ المین کو کس طور سلجھایا جاسکتا ہے ؟ میں نے کہا یہ الجھن آپ کی پیدا کردہ ہے اور آپ ہی اسے سمجھا سکتے ہیں۔فرمایا آپ بھی مد کر سکتے ہیں۔میں نے عرض کیا علی کی حیثیت میں مدد کر سکتا ہوں۔آپ سوائے امام جماعت احمدیہ کے کسی اور کی کوئی حیثیت جماعت میں تسلیم نہیں کرتے اور حضرت امام جماعت احمدین مجھے ان نمائندگی کا مر نہیں بنتا اور اس نے فرمایا آپ کو جماعت اور حکومت کے درمیان تعلقات کے استوار رہنے میں تو نیچی ضرور ہے۔میں نے کہا یقینا ہے اور اگر اس غلط فہمی کے پیدا ہونے کا اندیشہ نہ جوکہ میں حضرت امام جماعت احمدیہ کے نمائندے کے طور پر دلچسپ لے رہا ہوں تو میں انی سی کوشش کرنے کیلئے حاضر ہوں۔اس سے انہیں کچھ اطمینان ہو کہ میں انکے اور حضرت امام جماعت احمدیہ کے درمیان واسطہ بن سکتا ہوں۔میں اس سلسلے میں تین چار بارہ قادیان حاضر ہوا۔اب جو گورنر صاحب کو بلواسطہ ہی سہی حضرت خلیفہ المین کے ساتھ تبادلہ خیالات کا موقعہ ملا تو انہیں بار بار یہ تسلیم کر نا پڑا کہ حضور کا نقطہ نظر معقول ہے۔مثلاً پہلی بار خاکسار کے حاضر ہونے پر حضور نے فرمایا کہ یہ تو وہ نہ صاحب چاہتے ہیں کہ میرے خطبات میں حکومت کی شکایت کا سلسلہ نید ہو جائے تومیں جو بار بار حکومت کے موقف کی غلطی واضح کر چکا ہوں اگر یک لخت خاموش ہو جاؤں تو اس سے یہ مراجع کی جا سکتی ہے کہ میرے اپنے موقف کی غلطی مجھ پر واضح ہوگئی ہے۔یا حکومت نے مجھے کوئی دھمکی دی ہے جس سے ڈر کر میں خانوں ہوگیا ہوں۔اگر پہلی بات ہو یعنی حکومت کی طرف سے میرے موقف کی غلطی مجھ پر واضح کر دیجائے تو میں آئندہ کے لئے نہ صرف اس موضوع پر خاموش ہو جاؤں گا بلکہ اعلان بھی کردوں گاکہ میرا موقف غلط تھا اور میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں مجھے اس میں کوئی باک نہ ہوگا۔چونکہ دھمکی سے میں خاموش نہیں ہو سکتا اس لئے اگر میں ایسا سمجھے جانے کا موقعہ مہیا کر دی تو میں اپنے ہاتھوں اپنی توہین کرنے والا ہوں گا۔ہاں ایک صورت یہ ہے کہ اگر حکومت میرے موقف کو می سمجھ کر اس کی صحت کو تسلیم کرلے تو میں یہ کہ سکتا ہوں کہ حکومت کو جو غلط فہمی ہوئی تھی وہ رفع ہوگئی ہے اور اب اس معاملے کو طول دینا ہے معنی ہے۔میں حکومت کے وقار کو صدمہ پہنچانا نہیں چاہتا لیکن مجھے جماعت کے وقار کی بھی تو حفاظت کرنی ہے۔میں نے یہ سب باتیں گورنہ صاحب کے گوش گذار کر دیں۔گورنہ مانے فرمایا اچھا چیف سکریٹری مرزا صاحب کی خدمت میں ایک خط لکھ دیگا۔خط کا مضمون طے ہوا۔گورنر صامو نے کہا وہ خط شائع نہ کیا جائے بحضور نے فرمایا مجھے خط شائع کرنے کا کوئی شوق نہیں بلکہ میں تویہ بھی نہیں کہنا چاہتا کہ ھے کوئی خط لکھا گیا ہے۔لیکن یہ تو مجھے کہا ہوگا کہ حکومت نے میرا نقطہ نظر سلیم کر لیا ہے اس لئے اب اس موضوع پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔آخر گورنہ صاحب نے کہا چیف سیکر یٹری کی طرف سے خط لکھا جائیگا تو یہ بات تھی تو رہے گی نہیں۔”