تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 354 of 736

تحدیث نعمت — Page 354

م ۳۵ نگہ سے دیکھتے تھے۔اس کے متعلق انہیں یہ غلط فہمی تھی کہ مسیحہ قضاء احمدیوں کے مابین فوجداری تنازعات کا فیصلہ کرتا اور تغریر عاید کرتا ہے جسے وہ حکومت کے اختیارات میں تصرف تغیر کرتے تھے۔پیشہ بالکل بے بنیاد تھا۔مینو قضاء کو جرائم اور ان کی تحریر کے ساتھ قطعا کوئی سروکار نہ ہے نہ بھی تھا۔یہ صیغہ خالصتند دیوانی تنازعات کا فیصلہ کرتا ہے اور فریق متعلقہ سے ان فیصلہ جات کو مناسب ترغیب اور وعظ و نصیحت اور اخلاقی دباؤ سے منظور کراتا ہے اور یہ بات حکومت کی اعلان کردہ پالیسی کے عین مطابق ہے۔لیکن اس کا کامیابی کے ساتھ ہماری رہنا حکومت کے اس طبقہ کو پسند نہیں تھا۔دوسر سلسلے کے اندر صدر انجمن احمدیہ کے مختلف شعبوں کے الفرام کیلئے نظامہ توں کا قائم ہونا انہیں حکومت کے اندر حکومت کی شکل میں نظر آتا تھا۔اور وہ بجائے اس کے کہ اس نظام کو تربیت اور امن کا قابلِ قدر نمونہ شمارہ کرتے اسے حکومت کا مد مقابل اور آئندہ کیلئے خطرہ سمجھنے لگے تھے۔سر ہر بٹ ایمرسن گورنر پنجاب اور جماعت احمدیہ سر پر بیٹ المیرسن انڈین سول سروس کے ایک قابل افر تھے۔لیکن اپنے آپ کو بے جاعت تک دور بین اور نقطہ شناس سمجھتے تھے۔انہوں نے ذاتی طور پر جماعت اور سلسلہ کے صحیح حالات معلوم کرنے کی کوئی کوشش نہ کی تھی۔ان کا انحصار سر کاری خفیہ رپورٹوں اور مخالفین سلسان خصوصاً احرار کے پروپیگنڈا پر تھا۔جب مرکزی حکومت ہند کے ہوم سیکہ پٹری کے عہد سے ترقی پا کردہ پنجاب کے گورنہ ہوئے تو اس عزم کے ساتھ پنجاب آئے کہ صوبہ میں رعایا کے دو فریق شمار ہوئی گے۔ایک حکومت کے تابعین دوسرے حکومت کے مخالفین اور مخالفین کو کمزور کرنے اور انہیں قابو میں رکھنے کی ایک تجویہ ان کے ذہن میں یہ بھی تھی کہ انہیں اپس میں الجھائے رکھنا چاہیے۔جماعت احمدیہ کو اس کے عقائد ، اس کےاتحاد اس کے نظام اور اس کی عالمی تبلیغی سرگزی شیر کی وجہ سے وہ شبہ کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔انہیں جلد ایک موقعہ جماعت کی تادیث کا میسر آگیا۔جماعت احرار نے جس کا تمام ریکارڈ ہنگا مے اور شورش پیدا کرنے کا تھا اور جو ہمیشہ جماعت احمدیہ کے خلاف عوام کو اشتعال دلانے کے مواقع کی تلاش میں رہتی تھی قادیان میں ایک تبلیغی کا نفرنس کے انعقاد کی اجازت حکومت سے چاہی۔جماعت کی قادیان میں احتمالہ کی تبلیغی کانفرنس طرف سے حکومت پر واضح کیا گیاکہ اس کانفرنس کی غرض سوائے فساد کے اور کچھ نہیں ہو سکتی۔قادیان جماعت احمدیہ کا مرکز ہے۔قادیان کی آبادی کا 4 حصہ احمدی ہے باقی ہے حصے میں سے ایک ٹہری کثرت غیر مسلم ہے۔غیر احمدی عنصر نہایت قلیل ہے۔احمدی اور غیرمسلم تو کانفرنس میں شمل نہیں ہوں گے۔غیر احمدی عنصرا حرارہ کی تبلیغ کا محتاج نہیں نہ اس سے کوئی قائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ان حالات میں احمراری تبلیغ جماعت احمدیہ کے خلاف اشتعال انگیز تقریروں کا سلسلہ بن کر رہ جائے گی۔لیکن حکومت نے ان عذرات کی طرف کوئی التفات نہ کیا اور کا نفرنس کی اجازت دیدی۔جماعت کو سابقہ تجربے کی بنا پر علم تھا کہ احماری مقربین جماعت کے خلاف انتہائی درجے کا اشتغال پیدا کرنے کی سعی کریں گے جس سے امن کا قیام خطرے میں پڑ جائے گا۔