تحدیث نعمت — Page 17
16 1911 کی ضرورت پیش نہ آئی۔تو آپ نے لاء میں گھوڑے سے گرنے کے حادثے کے بعد شیخ محمد تیمور صاحب کے سپرد کیا تھا۔لیکن آپ کے وصال کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ شیخ صاحب نے وہ لفافہ کھولا۔اندر کے لفافے پر لکھا تھا کہ جس شخص کا نام اس لفافے کے اندر ہے۔اس کی بیعت کرنا۔اور لفافے کے اندر کاغذ کے پرزے پر محمود لکھا تھا یہ کے حادثے کے وقت میں لاہور تھا قادیان میں نہ تھا۔اور حضرت خلیفہ المسیح اقول رضی اللہ کے وصال کے وقت لندن میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔مندرجہ بالا روایت پختہ سماعی شہانیوں کی بنا پر درج کی گئی ہے۔اس بات کی شہادت خود مولوی محمدعلی کی تحریروں میں بھی موجود ہے کہ سلالہ میں حضرت خلیفہ المسیح اول نے صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمد احمد صاحب کی بعیت کی وصیت کی تھی۔مارچ، اپریل شاہ میں بی اے کے امتحان سے فارغ ہو کر اور چند دن سیالکوٹ بھر کر میں قادیان حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ابھی حضور حادثے کے اثرات سے پوری طرح صحت یاب نہیں ہو پائے تھے اورآپ کا وقت زیادہ تراپنے رہائشی مکان کے مردانہ دالان میں گذرتا تھا۔نمازیں بھی آپ وہیں ادا فرماتے تھے۔اور وہیں درس و تدریس اور صد در احکام کا سلسلہ جاری رہا تھا۔خاکسار بھی دن کا اکثر حصہ دہمیں آپ کی خدمت میں حاضر نہا تھا مغرب کے وقت حضور والان سے صحن میں تشریف لے جاتے تھے اور مغرب کی نمازہ صحن میں ادا فرماتے تھے، ظہر اور عصرکی نمازوں کے وقت حضور بلنگ کے ساتھ قبلہ پی ہوکر بیٹھ جاتے تھے اور بیٹھے ہوئے ہی نماز ادا فرماتے تھے عمومیشیخ محمد میرصاحب کو ارشاد ہوتا کہ نماز پڑھائی اگر شیخ صاحب موجود نہ ہوتے تو اپنے کی اور شاگرد کو نماز پڑھانے کے لئے فرماتے۔پہلے دن جب خاکسار حاضرموا اور ظہر کی نمانہ کی اذان ہونے پر آپ نے حاضرین کو ارشاد فرمایا۔جائیں نماز پڑھیں۔تو خاکسار بھی تعمیل ارشاد میں اٹھ کھڑا ہوا۔آپ نے خاکسارہ کی طرف دیکھ کر فرمایا۔میں تم میں نماز پڑھ لیا کر دیا۔چنانچہ عرصہ قیام قادیان میں خاکسار ظہر و عصر اور مغرب کی نمازیں آپ کے ساتھ ہی اور کرتا رہا۔ظہر عصر کی نمازوں میں آپ کی بائیں طرف تو پلنگ ہوا کرتا تھا اور دائیں طرف خاکسار کھڑا ہو جانا تھا۔اور لوجہ ادب اور اسلئے بھی کہ زیادہ قریب کھڑا ہونا آپ کیلئے تکلیف کا باعث نہ ہو، ذرا فاصلہ چھوڑ کر کھڑا ہوتا تھا۔لیکن آپ نے خاکسار کو اپنے قریب کھڑا کر لیا کرتے تھے۔مقتدیوں کی تعداد چھ سات ہوا کرتی تھی۔ایک روز عصر کی نماز کے وقت شیخ محمد تیمور صاحب موجود نہ تھے آپ نے نظر اٹھا کر حاضرین کا جائزہ لیا اور خاکسار کو فرمایا۔میاں تم نے قرآن پڑھا ہے تم نماز پڑھاؤ یہ ان ایام میں آپ ایشیخ محمد تیمور صاحب کو صحیح بخاری پڑھایا کرتے تھے شیخ صاحب ایک حدیث پڑھتے اور اگر کیسی بات کو وضاحب طلب سمجھتے تو آپ نے سے استصواب کرتے یا اگر آپ خود کچھ بیان فرمانا چاہتے تو بیان فرما