تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 326 of 736

تحدیث نعمت — Page 326

ان کے لئے ہندوستان ابھی تیار نہیں۔ہندوستان کی آبادی کے حصے کو ان امور میں دلچسپی بھی نہیں۔وہ کیا جانیں خود اختیاری کسی جانور کا نام ہے اور اس کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور ا سے کس طریق یہ چلایا جاسکتا ہے ان کا مفاد تو اس میں ہے کہ امن قائم رہے، انصاف ہو اور انکی بہبودی کی نگہداشت کی جائے۔اور یہ موجودہ صورت میں ہو رہتا ہے۔یہ سیاسی مطالبات تو محض ایک شورش ہے جو خود غرضی سیاسی قیادت نے بر پا کر رکھی ہے۔جہاں وزیرہ بند ہو قرطاس ابیض کے بنانیوالے تھے اور ہندوستان کے سیاسی میدان کے شہسوار ناکام رہے۔وہاں مجھے مٹر کہ میں جیسے آند مودہ کا پہلو ان کے ساتھ نبرد آزمائی کی کوئی خواہش نہیں تھی میں کھٹی کا اجلاس شروع ہونے سے کچھ وقت پہلے پہنچ جایا کرتا تھا اور اپنی نشست پر مجھے لکھائی پڑھائی میں مصروف رہتا تھا۔ایک صبح میں اسی شغل میں تھا کہ کسی نے میرے شانے پر ہاتھ رکھا۔میں نے سراٹھا کر دیکھا تو وزہ یہ بند تھے انہوں نے دریافت فرمایا ظفراللہ ! آج شاید تمہاری باری آجائے کیا تمہارا ارادہ چہر چال سے کوئی سوال پوچھنے کا ہے ؟ " میں نے کہا میری کیا مجال ہے ؟ کہنے لگے ہم سب یہ غلطی کر رہے ہیں کر پیر جیل پر اسکی سابقہ تقریروں کی بنا پر جرح کرتے رہے ہیں چہ چل پڑا ہوشیار پارلیمنٹیرین ہے۔تم نے دیکھا کیسی ہوشیاری سے اپنے سابقہ اقوال کی تعبیر کر کے ٹال جاتا ہے۔وہ تجہ اور بات ہے اختیارات اور بات اس قسم کی حیرح سے کچھ حاصل نہیں۔اگر تمہارا ارادہ چھہ پل سے کچھ سوال کرنے کا ہو تو تم اسے ہندوستان کی موجودہ حالت کے متعلق سوال کر دو جس کے متعلق اسے کچھ علم نہیں۔وہ سمجھتا ہے ہندوستان آج بھی وہی ہے جو آج سے تین ۳ پینتیس سال پہلے تھا جب بچہ جیل منگلور میں فوجی خدمت کر یہ ہا تھا۔یہ اوڈ واٹر کے ہم خیالوں کا پڑھایا ہوا سیاں آیا ہے خود اسے آج کے ہندوستان کے متعلق بہت کم علم ہے۔تم اسے اس میدان میں دھکیل کرنے جاؤ میں کے متعلق تمہیں علم ہے اور اسے نہیں وہاں یہ تمہارے مقابل پر نہتا ہوگا " میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا میں کوشش کروں گا۔مسرحمہ حیل پر سر وارہ بوٹا سنگھ کی جورج سہ پہر کے اجلاس میں مسٹر وہ پل پر سوالات کرنے کیلئے سردار بوٹا سنگھ درک کی باری آگئی۔وہ شیخو پورہ کے ایک وکیل تھے جو پنجاب کو نسل کے نائب صدر تھے اور مشتر کہ کمیٹی میں سکھوں کے نمائیندہ تھے انہیں مٹر چھہ پل پر جرح کرنے کا بہت شوق تھا ان کی نشست میرے دائیں ہاتھ تھی وہ بہت خوب شخص تھے لیکن نامانوس ماحول میں تھے۔انگریزی بالکل پنجابی لہجہ میں بولتے تھے لیکن بلند حوصلہ اور با ہمت تھے۔جب چیر مین نے ان کا نام دیکا را تو فوراً اپنے کاغذات سنبھالے، عینک چڑھائی اور بڑے مشفقانہ تیجے میں مسٹر وہ پل کو مخاطب کر کے کہا۔میں آپ سے کچھ سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔مٹر رہ چل نے انا سگار پہلا کہ مسکراتے ہوئے کہا۔شوق سے شوق سے سردار صاحب نے پوچھا مسٹر چھہ میں آپ نے کہا ہے آہستہ آواز میں مجد " "