تحدیث نعمت — Page 309
لکھ دو۔چنانچہ میں نے کرنل سیل کی تقرری کے حکم میں ان تین افسروں کے متعلق بھی ہدایت کر دی اور آخر میں لکھ دیا کہ وائسرائے اسے منظور کرتے ہیں۔جب جنرل میگا نے میرا نوٹ پڑھا تو بہت سیخ پا ہوئے مسٹر صالح حیدری ڈپٹی سیکر بیڑی سے کہا میں وائسرائے کے پاس اہتمام کرنا چاہتا ہوں وزیر سے اجازت سے دو کہ میں وائسرائے سے مل لوں مسٹر حیدری نے ان سے کہا وزیہ تو بلا تامل اجازت دیدے گا لیکن آپ وائسرائے سے کہیں گے کیا؟ اور وائسرائے تو رضامندی دے چکے ہیں اور یہ حکم اب وائسراے کا کم ہے۔جنرل میگا خاموش ہو گئے۔اپنی میعاد ختم ہونے پر منزل یک روز یہ ہند کے بی شیر مقر ہو گئے تھے ستان انہوں نے آئی ایم ایس کے متعلق ایک کتاب بھی شائع کی ہی سند میں جب میں شاہ جارت ششم کی تاجپوشی کے موقعہ پر سندی کے نمائیندے کی حیثیت سے لندن گیا تو یہ کتاب مجھے تحفہ دی۔اور بہت تپاک کے الفاظ اس میں درج کئے۔جب ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل کی جگہ پھر خالی ہوئی تو میاں صاحب نے اس آسامی پر لفٹنٹ کرنل گناپتی کا تقرر کیا جو ان تین افسران میں سے ایک تھے حین کے نام میں نے نوٹ میں درج کئے تھے۔لفٹنٹ کرنل گنا پتی سر سری سنگھ گاڈڑ کے داماد تھے۔اصلاحات کے متعلق وزارت و اخلال کے لیے آئینی اصلاحات پر وزارت داخلہ کے مراسلہ نام وزیر منہد کا بنام وزیر سند پر میری اختلافی رائے مسودہ جب وائسرائے کی کونسل میں زیر بحث آیا تو مجھے ایک پراگراف سے اختلاف ہوا۔سوال یہ تھا کہ کسی صوبے میں ہنگامی صورت پید ہو جانے پر امن عامہ کی حفاظت اور قانون کی پابندی کی نگرانی کا اختیار اور زمہ داری کس کے پیر ہو۔باقی سب اراکین کونسل کا سودے میں درج شدہ تجویز پراتفاق تھا۔میں اپی بخونید پر مصر رہا۔فیصلہ ہوا کہ میری اختلافی رائے مراسلے میں درج کر دی جائے اور مجھے ارشاد ہوا کہ تم خود ہی اختلافی رائے لکھ بھی دور میں نے ایک پیراگراف لکھ کر پرائیویٹ سیکریٹری کو بھیج دیا۔اس کی ابتدا ان الفاظ سے تھی۔ہم میں سے ایک کی رائے ہے کہ" پرائیویٹ سیکریٹری نے ٹیلیفون پر مجھ سے کہا کہ مناسب ہو گا اگر اس اختلافی پیراگران کے شروع میں تمہارا نام درج کر دیا ہے تا کہ وزیر سند کو معلوم ہو جائے کہ یہ اختلافی رائے کس کی ہے۔میں نے کہا بیشک درج کر دیجئے ؟ چند دن کے بعد مراسلے رائے ! کے متعلق وزیر سند کاتار موصول ہوا۔متنازعہ مسلے کے متعلق لکھا کہ اس مشکل اور پیچیدہ مسئلے کا موزوں اور قابل عمل حمل وہی ہے جو اختلافی رائے میں درج ہے۔جب وزیر ہند کے تارپر کوس میں غور ہوا تو میرے رفقاء نے پھر دیاکہ میں ان کے ساتھ متفق ہو جائیں۔میں نے کہایہ جب دعوت ہے کہ جب وزیر نیری جونی کو موں اور قابل عم سمجھتے ہیں تومیں پنی ائے چھوڑ کر آپکے ساتھ ال ہو جائیں اور کا کوں نے یہ ہند کی راے تسلیم کر لی۔فرقہ دارانہ نیابت کے سلسلہ میں حکومت ہند کی سفارشات میں سر فضل حسین صاحب کے رخصت پر جانے سے میں تبدیلی کرانیکی وزیر اعظم مرور میکڈا میر نے کوشش سے کون و راداران نیات کے لیے پرانی تجویز پہلے فرقہ وزیر نیند کی خدمت میں بھی کی تھی۔اس تجویز پیروز یہ ہند کی رائے میاں صاس کے رخصت پر جانے کے بعد وصول ہوئی۔وزیہ ہنے تجویز کیا کہ اداس بیٹی اور صوبہ منت طے کی مجالس میں سمانوں کی نشستوں میں ایک دو نشستوں کا اضافہ کر دیا جائے تاکہ