تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 296 of 736

تحدیث نعمت — Page 296

۲۹۶ ہوا تھا۔سید انعام اللہ شاہ صاحب سید افضل علی صاحب ، یو د هری بشیر احمد صاحب اور شیخ اعجانه احمد مات کے ساتھ بھی ان کے گہرے دوستانہ تعلقات ہو گئے تھے اور ہم تھے دوست آپس میں ایک مضبوط رشتہ اخوت میں منسلک تھے۔١٩٢٦ء چودھری شمشاد علی خالصاحب کی شادی ان کے کالج میں داخل ہونے سے پہلے ہو چکی تھی۔ان کی ٹیری ما برادری کی ولادت تالہ میں ہوئی یاء میں جب چودھری شمشاد علی تھا لصاحب بھاگلپور کے حاکم ضلع تھے ان کی ٹیری صاحبزادی میرے نکاح میں آئیں اور اس تعلق سے ہمارا رشتہ آپس میں اور بھی گہرا اور مضبوط ہو گیا شاد کے شروع میں چودھری شمشاد علی خالصاحب چھپرہ کے حاکم ضلع تھے مسافت کے لحاظ سے تو ہمارے درمیان سینکڑوں میلوں کا فاصلہ تھا لیکن تعلق محبت اور اخلاص کے رو سے بہانے گھر دیوار برلیاہ ہی تھے۔والدہ صاحبہ کو ان کے ساتھ ان کے کالج کے زمانہ سے ہی بیٹوں کی طرح انس تھا اور انہیں بہت عزیز رکھتی تھیں۔انہیں بھی والدہ صاحبہ کے ساتھ بہت محبت تھی۔فرمایا کرتے تھے میں بچہ تھا جب میری والدہ فوت ہو گئیں۔مجھے ان کا ہوش نہیں۔مجھے ماں کی محبت کا تجربہ والدہ صاحبہ کی محبت سے ہوا ہے۔انوی شاہ کی صبح کو والدہ صاحب نے اپنے خواب کا دوسرا حصہ سنایا ہی تھا اور وہ ابھی میرے کمرے ہی میں تشریف فرما تھیں کہ ایک تار آیا جس میں یہ اندوہناک خبر تھی کہ شمشاد علی نعال گولی لگنے سے فوت ہو گئے انا للہ وانا الیہ را جعون فيض الله له ويجعل الجنة العليا مثواه - والدہ صاحبہ کے سترہ دن پہلے کے منتظر نخوا کے دونوں تھے پورے ہو گئے۔ان کی وفات کی تاریخ میرے بیس سال پہلے کے خواب کے مطابق تھی جس کا ذکر پہلے آچکا ہے بتاء میں جب وہ پنجاب تشریف لائے تھے تو مجھ سے ذکر کیا کہ وہ انڈین سول سروس کے فیملی فنڈ میں شامل ہیں اب اس فنڈ کو انگلستان منتقل کر دینے کی تجویز ہے۔جو ہندوستانی افراس فنڈ میں شامل ہیں انہیں اختیار دیا گیا ہے کہ چاہیں تو انی ادا کردہ رقم معہ منافع واپس لے لیں اور چاہیں تو فنڈ کے انگلستان منتقل ہو جانے پر بھی بدستور فنڈ میں شامل رہیں۔فرمایا مجھے اس وقت فنڈ سے سولہ سترہ ہزار روپے کی رقم واپس مل سکتی ہے اور میں نے لکھ دیا ہے کہ میری رقم واپس کر دی جائے۔میں نے بڑے اصرار سے کہا کہ آپ رقم واپس نہ لیں اور فنڈ میں شامل رہیں۔چنانچہ انہوں نے اپنی چھٹی واپس لے لی اور منڈ میں شامل رہے۔ان کی وفات کے وقت ان کے تو بچے تھے۔پانچ بیٹیاں اور چار بیٹے ان میں سے صرف بڑی صاجزادی شادی شدہ تھیں۔باقی سب بچے اور ان کی بیگم فنڈ سے پنشن پانے کے حقدار تھے۔ان سب کی نمیشن چودھری صاحب کی وفات کے وقت بیس ہزار روپے سالانہ کے قریب بنتی تھی جو ادا نہ ہی شروع ہوئی۔جیسے جیسے بچوں کی شادیاں ہوتی گئیں ان کے حصے کی پیشن ختم ہوتی گی ہی سے چھوٹا بچہ تو چھوٹی عمرمیں وقت ہو گیا۔منجھا بیٹا شام میں فوت ہوگیا دوسرے دونوں بیٹوں کی میشن اکیس سال کی عمر ہونے پر ختم ہوگئی۔بڑھا ابزادہ