تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 297 of 736

تحدیث نعمت — Page 297

۲۹۷ نصراللہ خان فوج میں لفٹنٹ کرنل ہوا۔اور فوج سے مستعفی ہونے کے بعد اب انٹر کانٹینٹل ہوٹل کی انتظامیہ میں ہے۔بچھوٹا سعید اللہ خان اب فضائی میں ایک کموڈور ہے۔چودھری صاحب کی بیگم صاحبہ محترمہ کی پیشین اب تک جاری ہے سنوری شاہ کا نصف اول اپنے ساتھ بہ مری آن ا ا ا ا ا ا ا نور کی می کومیں مانی اور بنیاتی دونوں لحاظ سے سخت مجروح اور نڈھال تھا، بدن میں سک نہیں تھی، دماغ پریشان تھا۔تقریر کرنے کی طاقت نہیں تھی، گویائی کی قوت معمل تھی، لیکن عدالت میں حاضری لازم تھی اور ریاست ممدوٹ کی دراشت کے اہم مسئلے پر محبت کا آغاز مجھے کرنا تھا۔فناشل کمشنر سر مائیلیز ارونگ تھے۔عدالت کے کمرے سے باہر سید حسن امام صاحب سے ملاقات ہوئی۔وہ چودھری شمشاد علی خان صاحب کی وفات کی خبر اخبارہ میں دیکھ چکے تھے مرحوم کے ساتھ ان کے دوستانہ مراسم تھے میرے ساتھ انسویں اور ہمدردی کا اظہار کیا اور فرمایام سے ہی نڈھال ہو رہے تھے۔اب تو بالکل بحث کے قابل نہ ہو گے۔بہتر ہو م دونوں نال کمر سے کہ کر تاریخ سماعت منوی کی لیں میں نے کہ آپ اتنی دور سے تشریف لائے ہیں اور کس کے لئے تیار ہو کر آئے ہیں اس مرحلے پر التوا مناسب نہیں میں کسی طور انشاء اللہ نباہ کر لوں گا۔البتہ میری یہ کوشش ہوگی کہ محبت آن ختم ہو جائے۔کیونکہ کل صبح مجھے شمشاد علی خانصار کے جنازے کے امرتیہ پہنچنے پر ماں موجود ہوتا ہے تاکہ دریاں سے جنازے کے ساتھ انہیں دفن کرنے کے لئے قادیان جاسکوں۔بحث کے دوران میں مجھے بہت آہستہ ہونا پڑانا کہ میری بات آسانی سے سمجھی جاسکے۔دس بجے بحث شروع کر کے ایک بجے تک میں نے ختم کر لی دو بجے سید حسن امام صاحب نے بحث شروع کی اور چار بجے ختم کردی، نانش کمتر مارنے کا جواب کل صبح سنیں گے۔اس پر یدان امام مانتے کہ اگر آپ ایک گنہ میرا عباس جای کرک میں عنایت ہوگی در جواب بھی آن ہی ختم ہو جائے گا۔کل صبح ظفر اللہ خان کو ایک نہایت اندوہناک فرض کی ادائیگی کیلئے امر تر پہنچنا ہے۔وہ فوراً رضا مند ہو گئے۔اور میں نے ایک گھنٹے میں جواب ختم کر لیا۔فجاء ھم اللہ خیرا۔اس تنازعے کا فیصلہ آخر با می راضی نامے سے ہوگیا۔نواب شاہ نوانہ خالص و ی نے ممدوٹ ہاؤس لاہور اور ضلع منٹگمری کی اراضیات مرحوم نواب صاحب کی جوہ کو دینا منظور کر لیا۔اور ریاست کی بانی تمام جائداد نواب صابر کے نام منتقل ہوگئی۔میں ۱۸ کی صبح امرلتہ پہنچا اور شمشاد علی خاں کے بنانے کے ساتھ قادیا گیا۔تدفین سے فارغ ہو کر اسی شام دہلی کیلیئے ردانہ جوکر بیچ ٹر یونین کی عدالت میں حاضر ہو گیا۔جب میں لندن کے سفر پر روانہ ہوا تھاتو پہلے سلطان گواہ پر مورچ ہو رہی تھی واپس آیا تو اس پر مجروح بھاری تھی۔چودھری شمشاد علی خالص و کے گھر کے لوگ چھپرہ سے میرے پاس دتی آگئے۔اپنے ماڈل ٹاؤن والے مکان کے اوپر ہم نے دوسری منزل تعمیر کر لی اور انہوں نے اس میں رہائش اختیار کر لی حسن اتفاق سے ہمارے مکان سے ملحق قطعہ زمین ابھیج تک خالی تھا۔اس کے مالک اسے فروخت کرنے پر رضا مند ہو گئے۔کچھ عرصہ بعد محترمہ باجی