تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 283 of 736

تحدیث نعمت — Page 283

VAN میاں نسیم حسین من ہم حسین صاحب | اس زمانے میں گرمیوں کے موسم میں نئی دہلی سنسان ہو جایا کرتی تھی۔ہمارا سنگہ مختصر مگر آرام دہ تھاجس کی مٹیوں اور بجلی کے پنکھوں کی مدد سے گرمی سے آسائش رہتی تھی۔میاں سرفضل حسین صاحب کے بڑے صاحبزادے میاں نیم حسین صاحب نئے نئے گوڈ گاؤں میں مجسٹریٹ مقررہ ہوئے تھے۔وہ ہمالہ نکلے سے سول میل کے فاصلے پر رہتے تھے۔میں ہفتے میں دوتین بارہ وہاں جاکر انہیں ساتھ سے آتا وہ شام کا کھانا میرے ساتھ کی کہ واپس جاتے۔میں ساتھ جاکر انہیں چھوڑ آتا۔اتوار کا دن وہ اکثر ہمارے ساتھ گزارتے تھے انہی دنوں وہ سلسلہ احمدیہ میں بیعت ہوئے تھے۔میاں نسیم حین صاحب کی شادی پشاور کے ایک نہایت معزنہ اور علم دوست نماندان میں ہوئی۔محترمہ بیگم نسیم حسین فضل اللہ حسن اخلاق اور علم دین کے بیش قیمت ندیور سے آراستہ تھیں۔شادی کے چند سال بعد میاں نسیم حسین صاحب کا تقر بطور پرائیویٹ سیکریٹری ملک سر فیروز خان نون صاحب ہوا ہو اس وقت لندن میں ہندوستان کے نائی کمتر تھے۔میاں صاحب نے اپر چمن روڈ پر آرمونڈ کورٹ میں سانش اختیار کی۔دیالی سے ہائی کمشنر صاحب کا رہائشی مکان جو پٹی پل پر تھا اور نہ تھا اور لنڈن کی احمدیہ مجد بھی قریب بھی تھی۔محترمہ بیگم نسیم حسین نے خواہش ظاہر کی کہ وہ سلسلہ احمدیہ کے عقائد اور تعلیم کا تفصیلی مطالعہ کرنا چاہتی ہیں۔نسیم حسین نے مولانا جلال الدین شمس صاحب سے جو ان دنوں مسجد درشن کے انچا رہے تھے درخواست کی کہ وہ مہفتے میں ایک دوبار ان کے مکان پر تشریف لاکر ان امور کی وضاحت فرما دیا کہ ہیں جن کے متعلق ان کی بگم صاحبہ معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔مولانا صاحب نے بخوشی یہ خدمت اپنے ذمے لی اور باقاعد میاں صاحب کے ہاں حاضر ہوتے رہے۔جب محترمہ بیگم صاحبہ کو مسلہ احمدیہ کی صداقت کے متعلق پورا اطمینان ہوگیا تو انہوں نے بعد مشوق سلسلہ احمدیہ میں بیعت ہونے کا فیصلہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے کمال فضل اور ذرہ نواندی سے ان کی زندگی کا ہر پلو اسلام کی تعلیم کی عملی تصویر بن گیا۔جو عہد بعیت انہوں نے کیا اسے پورا اخلاص کے ساتھہ کما حقہ پورا کیا۔اور الہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق سے پورا کرتی چلی جارہی ہیں۔اس راستے میں تو شکل بھی انہیں پیش آئی وہ ان کے اخلاص میں اینزادی اور استقامت میں مضبوطی کا باعث ہوئی۔میاں نسیم حسین صاحب پاکستان کے قیام پر وزارت خارجہ میں شامل کئے گئے۔تہران ، بغداد ، بیروت میں بطور سیکریٹری ، کونسلر ، سفیر متعیین رہے۔ملازمت کا عرصہ نہایت نیک نامی سے گذارا بھی کو بھی آپ سے ملنے کا اتفاق ہوا وہ آپ کے حسن اخلاق کا مدح سرا ہوا۔بیروت کی تعیناتی پردہ خاص طور پر خوش اور مطمئن تھے۔لبنان اور ارون دو نوں آپ کے حلقہ سفانہ میں تھے۔جب بھی عمان جانے کا موقعہ ہو تا قدس پہنچ کر مسجد اقصٰی میں نماند یں اور نوافل ادا کر تھے اور ہم شکل کامل اپنے مولا سے طلب کرتے۔جب موقع ملتا چھٹی لیکن ج یا عمرہ کے لئے مکہ شریف حاضر ہوتے مدینہ شریف حاضر جو کہ مسجد نبوی میں نمازہیں اور نوافل ادا کرتے۔جب ممکن ہوتا محترمہ بیگم صاحبہ ان متبرک مقامات کے سفروں