تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 282 of 736

تحدیث نعمت — Page 282

PAY کیا جاتا ہے اس الزام کے تحت ان پر عام عدالتوں میں کاروائی کی بجائے ٹریبیونل قائم کرنے سے ملک کی توسعه ان نوجواں کی طرف منعطف ہوگی اور انہیں قومی ہیرو بنالیا جائے گا۔کاروائی طول کھینچے گی حکومت کو بھاری اخراجات۔برداشت کرنے ہوں گے اور نتیجہ معلوم سر جی نے میری گذارش تو توجہ سے سن لیکن میرے مشورے پر عمل نہ کیا۔گایا لیکن سازش کیس ٹریبیونل کے اراکین | سازش کیس کی سماعت کیلئے جوڑ یو بل مقرر کیا گیا اس کے صدر سر ونائیٹ صوبہ متحدہ کے ایک سیشن جج تھے۔اور درست در داراکین خان بہادر شیخ امیر علی صاحب ریٹائرڈ سیشن ج پنجاب اور رائے بہادر لال کنور سین صاحب ریٹائرڈ چیف جسٹس جموں وکشمیر تھے۔جب یں لا کالج لاہورمیں لیکچر ہوا تو ان دنوں لال کنور سین صاحب لاء کالج کے پرنسپل تھے۔ان کے والد محترم لال کھیم سین صاحب سیالکوٹ میں وکالت کرتے تھے۔شیخ امیر علی صاحب ٹربیونل میں شریک ہونے سے برسوں پہلے پنشن یاب ہو چکے تھے۔وہ ٹرم میونل کی کاروائی کی طرف تمام وقت پوری توجہ بھی قائم نہیں رکھ سکتے تھے۔رائے بہادر کو سین صاحب کی تو رائے ہوتی اس پر اتفاق فرماتے۔نتیجہ یہ تھاکہ عمل پر معاملہ رائے بہادر کورسین صاحب کی رائے کے مطابق طے پاتا اور ان کی رائے بود درخواست بھی ملزمان کی طرف سے دیجاتی اس کی تائید میں ہوتی۔ٹریبونل میں نہیں کی کاروائی ملزمان پر الزام یہ تھا کہ وہ ایک ایسی سانہ ش میں شریک ہوئے جس کا مقصد ہندوستان میں برطانوی حکومت کو نیدور ختم کرتا تھا اور اس سازش کے مقصد کے حصول کیلئے انہوں نے ایک کثیر مقدار کرناتھا بارود کی تیار کی اور بہت سے اور جرائم مثلا ڈکیتی وغیرہ کے مرتکب ہوئے۔سب ملزمان تعلیمیافتہ نوجوان تھے۔دو تین انی میں سے گریجویٹ تھے۔مسٹر و تسیانہ صنعتی کیمیا میں ڈگری حاصل کر چکے تھے اور طلائی تمغہ لے چکے تھے۔ان کا خفیہ نام اپنے رفقاء میں سائنٹسٹ تھا۔ظاہر ہے کہ ملزمان کوعوام کی ہمدردی حاصل تھی۔پریس اور پبلک کو مقدمہ کی کاروئی سے بہت دلچسپی تھی۔ملزمان کو اس مقدمہ کی پیروی کیلئے حکومت کی طرف سے اخراجات مہیا کئے جاتے تھے۔جو اندازاً دس ہزار روپے ماہوار تھے۔ابتداء میں ملزمان کی طرف سے سنیر وکیل سٹر آصف علی صاحب تھے ان کے ساتھ دو تین جونیئر وکیل تھے۔جب کاروائی نے طول کھینچ تو مٹر آصف علی صاحب کی جگہ ڈاکٹر سیف الدین کچلو اس نے لی۔ٹر پیوٹنل کے اجلاس حکومت ن کے سیکریٹریٹ کی جو عمارت کے کسی حصے میں نئی دہلی میں شروع ہوئے۔ان دونوں حکومت ہند کے دفاتر شما منتقل ہو سکے تھے۔جب دفاتہ کے دلی واپس آنے کا وقت قریب آیا تو ٹربیونل کے اجلاس پھرانے وائٹر شکیل راج واقعہ پرانی دہلی میں منعقد ہونے لگے۔ٹریبیونل کے اجلاس شروع ہونے تک میری تحریک پر چو دھری محمد امین صاحب کو جو اس وقت شیخو پوره میں سرکاری وکیل تھے میرا شریک کا مقرر کر دیا گیا تھا۔چونک کر میونل کے اجلاس نئی دہلی میں ہوتے رہے میری رہائش ایک قریب کے سرکاری بنگلہ میں رہی۔جب ٹریول کی عدالت پرانے رائٹر لیگل لاج میں منتقل ہوئی تو مجھے قریب ہی ایک جنگلہ جو کسی وقت میں وائسر دیگل ڈسپنسری ہوا کرتا تھا ر ہائش کے لئے مل گیا۔