تحدیث نعمت — Page 12
میں رونق افروز ہوتے تو بعض دفعہ توریت مولوی صاحب سے اس بچے کی صحت کے متعلق بھی دریافت فرماتے۔ایک دفعہ جب حضرت مولوی صاحب نے بچے کی حالت کے متعلق تشویش کا اظہار کیا تو حضو نے فرمایا۔مولوی صاحب اللہ تعالٰی اپنی مصلحتوں کو خود جانتا ہے۔ہمارے لئے ہمدردی اور خدمت لازم ہے آپ پوری توجہ سے علاج جاری رکھیں اور جو کچھ بھی ضروری ہو عمل میں لائیں۔صاحبزادہ مرزا بشیر محمد صاحب کا گورنمنٹ منی نکلہ میں صاحبزادہ مربہ الشیر احمد صاحب بتا سکول کالج میں داخلہ اور ان سے تعلق اخوت کی تعلیم ختم کر کے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوگئے اس طرح خاکسارہ کو کالج کے آخری سال میں آپ کی رفاقت کی سعادت حاصل ہو گئی۔اور یہ تعلق ایسا حکم اور مضبوط ہوتا چلا گیا کہ کامل یگانگت کا رنگ کیر گیا۔یہ تعلق نصف صدی سے نہائد عرصہ تک آپ کے وصال تک قائم کرتا۔آپ کا لج میں داخل ہو جیسے پہلے ہی ایک باوقار تقوی شعار راضی بہ رضا شخصیت بن چکے تھے۔کالج کی زندگی کے ہر شعبے میں آپ کو ایک امتیازہ حاصل ہوا۔طلباء اور اساتذہ سب آپ کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔خاکسار کے ساتھ آپ نے ہمیشہ مشفقانہ اور کریمانہ اخوت کا سلوک روا نہ کھا پیسچ تو یہ ہے کہ آپکے نہایت اعلیٰ خلق کے مالک تھے۔اور جس کسی کو بھی آپ کے ساتھ کسی رنگ میں سابقہ پڑا وہ ضرور آپ کی عنایات کا موٹر ہوا۔فجزاء الله خير او يغفر الله له ويجعل الله الجنة العلياء مثواه چودھری شمشاد علی صاحب مرحوم اسی سال چودھری شمشاد علی خاں صاحب مرحوم بھی گورنمنٹ کا لچ کا گورنمنٹ کالج میں داخلہ میں داخل ہو گئے اور صاحبزادہ صاحب نے موصوف کے ہم جماعت ہونے کا شرف حاصل کیا۔چونکہ دونوں اصحاب کی رہائش بھی کالج کے پہلے سال کے دوران میں ایک ہی بڑے کرے میں تھی اس لئے دونوں کے در میان گرا رابطہ قائم ہوگیا۔اور یہ تعلق بھی مضبوط سے مضبوط نہ ہوتا گیا، اور چودھری شمشاد علی خانصاحب کی وفات 4ار جنوری تسلہ تک قائم رہا۔چودھری سردار محمد صاحب صاحبزادہ صاحب اور چودھری شمشاد علی خاں صاحب کے دوستوں میں سے ایک چودھری سروالہ محمد صاحب بھی تھے۔جو میرے بھی مخلص اور گہرے دوست تھے وہ مجھ سے دو سال بعد اور صاحبزادہ صاحب سے ایک سال پیشتر کا لہی میں داخل ہوئے سلسلہ عالیہ احمدیہ سے تو تعلق نہیں کہتے تھے لیکن طبیعیت کے نہایت شریف اور بہت با اخلاق انسان تھے۔کالج سے کیمیا د کیمسٹری میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پشاور کالج میں کیمیا کے پر وفیہ ہوئے اور چند سال بعد زراعتی کالج لائل پور میں منتقل ہو گئے۔وہ جناب صاحبزادہ صاحب کے حسن اخلاق کے گرویدہ تھے۔انہوں نے آخر تک عہدِ وفا نبھایا، تقسیم کے بعد جب ربوہ میں سلسلہ کا مرکز قائم ہوا ت حال میں ایک دو بار ضرور صاحب زادہ صاحب 1